خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 543

خطبات محمود ۵۲۳ جلد سوم بھی خدمت دین کی توفیق ملی مگر افسوس کہ ان کا انجام اتنا اچھا نہ ہوا۔سیٹھ عبد الرحمن صاحب نے ابتداء سے خدمت شروع کی حضرت خلیفہ اول کا زمانہ بھی پایا، پھر میرا زمانہ بھی پایا، اب بھی ان کی لڑکیوں کی اولاد کو احمدی نہیں مگر حالت یہ ہے کہ سال ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا مدراس کے ایک محمد یعقوب صاحب بہت مشہور کا نگری تھے ان کے ایک بھائی کو سیٹھ صاحب کی نواسی بیاہی ہوئی تھی ان کی طرف سے کپڑوں کا ایک پارسل پہنچا اور ساتھ لکھا تھا میں غیر احمدی ہوں، میری بیوی سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب کی نواسی تھی۔اس نے کہا تھا کہ جب میں مرا جاؤں تو میرے کپڑے قادیان پہنچا دینا اب میں یہ کپڑے بھیج رہا ہوں۔یہ سیٹھ صاحب کے اخلاص کا ہی نتیجہ تھا کہ اتنے عرصہ کے بعد بھی ان کے خاندان کی ایک عورت کو قادیان کا خیال رہا۔مجھے سیٹھ صاحب کا ایک لطیفہ بھی کبھی نہیں بھولتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام يه نے ان کی بڑی تعریفیں کی ہیں اور اس وقت کے لوگ جانتے ہیں کہ آپ سیٹھ صاحب کی کتنی قدر کرتے تھے اور جماعت میں بھی ان کی کتنی قدر تھی۔سیٹھ صاحب کا لفظ سیٹھ عبد الرحمن صاحب سے مخصوص تھا۔بغیر نام سننے کے سیٹھ صاحب کہنا کافی ہوتا اور لوگ سمجھ لیتے تھے کہ مراد سیٹھ عبدالرحمن صاحب ہیں انہیں صدر انجمن کا ممبر بنایا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے وقت میں جب اختلاف شروع ہوا تو دونوں فریق نے کوشش کی کہ سیٹھ صاحب ہمارے ساتھ ہوں۔دونوں فریق نے انہیں لٹریچر بھیجا تو وہ بے چین سے ہو گئے چونکہ بہت غربت کی حالت تھی قادیان نہ آسکتے تھے ان کے ایک دوست کروڑپتی تھے ان سے کسی نے سیٹھ صاحب کی بے چینی کا ذکر کیا تو انہوں نے کچھ روپے دیئے اور کہا کہ آپ قادیان ہو آئیں۔روپیہ ملنے پر وہ چل پڑے راستہ میں صندوق کھول کر جو کوئی چیز نکالنے لگے تو بٹوا جس میں روپیہ اور ٹکٹ بھی تھا نیچے گر گیا اور انہیں پتہ نہ لگا۔ایک جگہ انہوں نے دودھ خریدا اور بٹوا نکال کر پیسے دینے لگے تو معلوم ہوا کہ بوہ تو ہے ہی نہیں۔اس پر انہوں نے دودھ واپس کر دیا اور دودھ والا برا بھلا کہتا چلا گیا۔ان کے ساتھ ہی کوئی اور بھی سوار تھا اسے یہ دیکھ کر تعجب تو ہوا مگر کچھ نہ بولا۔سیٹھ صاحب نے سنایا دو تین گھنٹہ کے بعد جب کھانے کا وقت آیا تو اس نے کھانا کھایا مگر میں یونہی بیٹھا رہا شام کے وقت اس نے پھر کھانا کھایا مگر میں نے کچھ نہ کھایا۔اس وقت وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کیا بات ہے آپ نے سارے دن میں کچھ نہیں کھایا حالانکہ آپ بوڑھے