خطبات محمود (جلد 3) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ جلد - اس لئے ان کے دکھائے جانے کے یہ معنے ہیں کہ ان کے نزدیک بھی یہ رشتہ پسندیدہ ہے بھائی عبدالرحیم صاحب کا جو ان نظر آنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب کی صحت کمزور ہے، دبلے پتلے ہیں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ وہ چاہے تو ان کی جسمانی صحت کو مضبوط کردے گا۔میرے نزدیک تو یہی دیکھنا چاہئے کہ لڑکا نیک اور دیندار ہو۔بڑی دعوت کے دکھائے جانے کے یہ معنے ہیں کہ اس لڑکے کے والدین غریب میں والد چونکہ بیمار ہیں اس لئے گزارہ کی کوئی ایسی صورت نہیں میں نے خیال کیا کہ دعوت سے اللہ تعالٰی نے یہ اشارہ کیا ہے کہ رزق کی کشائش اس کے ہاتھ میں ہے وہ اگر چاہے تو غریبوں کو بھی امیر کر سکتا ہے اور چاہے تو امیروں کی دولت بھی چھین سکتا ہے۔بعض دوستوں نے جن سے میں نے مشورہ کیا یہ تحریک کی تھی کہ ان کا نام عبد الرب تبدیل کر دیا جائے اور خواب کے مطابق عبدالرحیم رکھ دیا جائے چنانچہ میں نے ان کا نام عبدالرحیم احمد رکھ دیا ہے۔یہ رشتہ گو ہمارے خاندان سے باہر ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد بڑھے گی تو آخر رشتے خاندان سے باہر بھی کرنے پڑیں گے۔میری یہ لڑکی امتہ الرشید بیگم مرحومہ امتہ الحی کی لڑکی ہے اس کی بڑی بہن کا رشتہ گزشتہ سال میاں مظفر احمد صاحب کے ساتھ ہو چکا ہے۔دوسری لڑکی امتہ العزیز کا نکاح میاں حمید احمد صاحب کے ساتھ طے پایا ہے وہ میرے اور مرزا بشیر احمد صاحب کے لڑکے ہیں۔ایک ایک ہزار روپیہ دونوں کا مہر ہے۔میاں عبدالرحیم احمد صاحب پروفیسر علی احمد صاحب بھاگلپوری کے لڑکے ہیں اور میری مرحومہ بیوی سارہ بیگم صاحبہ کے رشتہ دار ہیں۔ضمن میں ایک لطیفہ مجھے یاد آگیا۔بعض باتیں ہوتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی بعض عجیب ممتیں ہوتی ہیں شروع شروع میں جب میاں عبدالرحیم احمد قادیان آئے تو بہت چھوٹے تھے ان کے ساتھ ایک اور چھوٹا سا لڑکا بھی تھا جب یہ دونوں ان سے ملنے کے لئے آئے تو میں مرحومه ساره بیگم صاحبہ کے کمرہ میں تھا اور اس وقت ان کے ساتھ یہی گفتگو کر رہا تھا کہ بہار کے لوگ اردو صحیح نہیں بول سکتے بلکہ الفاظ آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔اس سے چند روز پہلے چودھری شمشاد علی صاحب مرحوم یہاں آئے تھے اور میں ذکر کر رہا تھا کہ انہوں نے اس زبان کے تغیر کے کئی واقعات سنائے تھے۔غرض میں سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ سے کہہ رہا تھا کہ بہار کی