خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 527

خطبات محمود ۵۲۷ جلد موم کیسی خوبصورتی ہے۔خدا تعالی کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو وہ اگر پراگندہ ہوں تو بھی ان میں ایک حسن نظر آئے گا۔دریا نہروں کی طرح باقاعدگی کے ساتھ بنائے نہیں جاتے مگر ان پر جا کر طبیعت پر جو خوش کن اثر ہوتا ہے وہ نہروں پر جانے سے نہیں ہوتا۔پہاڑ کسی انسانی قاعدہ کے مطابق بنے ہوئے نہیں ہوتے مگر پہاڑ کے نظاروں کو دیکھ کر جو فرحت حاصل ہوتی ہے وہ لارنس گارڈن کو دیکھ کر نہیں ہوتی۔کتنے لوگ ہیں جو لارنس گارڈن دیکھنے کے لئے جاتے ہیں اور کتنے ہیں جو پہاڑوں پر جاتے ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ پہاڑوں کی وسعت اور ان کے بے ڈول ہونے میں بھی ایک تناسب قدرت نے رکھا ہے اور یہ تناسب قدرت کی ہر چیز میں ہے اور اس میں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ ہم بھی اپنے کاموں میں اسے مد نظر ر کھیں۔اس لئے نکاح کرتے وقت وہ اصول مد نظر رکھنے ضروری ہیں جو اسے دین اور دنیا دونوں لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ترقیات کا موجب بنا سکیں۔چونکہ اس کے بعد مجھے جمعہ کا خطبہ بھی پڑھنا ہے اس لئے خطبہ کو اس حد تک رکھتا ہوں اور یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت میری لڑکیوں امتہ الرشید بیگم اور امتہ العزیز بیگم کے اح ہیں امتہ الرشید کا نکاح میاں عبدالرحیم احمد صاحب کے ساتھ تجویز ہوا ہے ان کا پہلا نام عبد الرب تھا مگر ایک مصلحت اور خواب کی بناء پر اب ان کا نام عبد الرحیم رکھدیا گیا ہے اور چونکہ ان کے والد کا نام علی احمد ہے اس لحاظ سے احمد بھی ساتھ لگا دیا گیا ہے۔اس کے متعلق میں نے جس خواب کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں اس رشتہ کے متعلق استخارہ کر رہا تھا تو میں نے خواب دیکھا کہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام ہو رہا ہے اس میں بہت سے لوگ شریک ہیں میز کرسیاں اور بیج پڑے ہیں صدر کی جگہ میں بیٹھا ہوں اور کچھ پیچ لوگ اور بھی میرے ساتھ ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول بھی دعوت میں شریک ہیں اور اس دعوت میں جو سرو (Serve) (خدمت) کرنے والا ہے معلوم نہیں وہ کس حکمت سے بھائی عبدالرحیم صاحب معلوم ہوتے ہیں۔یوں تو بھائی صاحب اب بہت ضعیف ہیں نظر بھی کچھ کمزور ہو چکی ہے مگر اس وقت وہ بالکل جو ان معلوم ہوتے ہیں عمر جو میں سال کی ہے۔حضرت خلیفہ اول مجھے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں میاں دیکھو تو یہ کیسا نوجوان ہے میں حیران ہو تا ہوں کہ یہ تو قریباً ۶۵ سال کی عمر کے بوڑھے تھے مگر اب کیسے جوان ہیں۔میں نے اس خواب کی تعبیر یہی سمجھی کہ حضرت خلیفہ اول چونکہ میری اس لڑکی کے نانا ہیں