خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 516

خطبات محمود ۵۱۶ جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں جب کوئی مہمان آتا اور آپ کو کھانا تیار کرنے کے لئے کہتے تو وہ کہلا بھیجتیں کہ تمہارے مہمانوں کے لئے ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی بہانے مہمان کو اپنا کھانا کھلا دیتے اور خود فاقہ کرتے اور بعض دفعہ جب کوئی کہتا کہ بی بی یہ تو آدھی جائداد کا مالک ہے آپ اس سے ایسا سلوک کیوں کرتی ہیں تو وہ کہتیں ایہہ سارا دن میتے بیٹھا رہندا اے۔اس دا جائداد نال کی تعلق ہے"۔یعنی یہ سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اس کا جائداد سے کیا تعلق ہے؟ یہ ہمارا پنجابی محاورہ ہے اس کا یہ مطلب ہوا کرتا ہے کہ جب فلاں شخص اپنے بھائیوں کا ہاتھ نہیں بٹاتا تو اس کا جائداد سے بھی کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔اب کجا وہ حالت کہ قادیان ایک کو ردہ تھا جس کو دنیا میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا اور کجا یہ حالت کہ خدا تعالٰی نے دین کی تمام ترقیات کا مرکز قادیان کو بنا دیا اور آئندہ اسلام کو جو بھی عظمت حاصل ہوگی اس عظمت کی بنیاد رکھنے والی فوجیں ہیں سے تیار ہو کر نکلیں گی۔مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے بچے تھے تو تائی صاحبہ ہمیں دیکھ کر ہمیشہ یہ کہا کرتی تھیں کہ ”جیو جیا کاں اوہو جہی کو کو کہ جیسے باپ خراب ہے ویسے ہی اس کے بچے بھی ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے الگ رہتے تھے اس لئے وہ آپ کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں اور انہیں شکوہ رہتا تھا کہ وہ مجھے آکر سلام نہیں کرتا۔تو خدا تعالٰی کے ان زندہ معجزات کو دیکھنے کے بعد کیونکر ممکن ہے کہ لوگ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور پھر خدا ان کے لئے بھی اپنے تازہ معجزات اور نشانات نہ دکھائے۔لوگوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اصل عزت وہ ہے جو دنیا کی طرف سے ملتی ہے حالانکہ اصل عزت وہ ہے بلکہ حقیقت عزت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔مرزا سلطان احمد صاحب جو میرے بڑے بھائی تھے وہ ڈپٹی کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے تھے اور دنیوی لحاظ سے ان کی اچھی عزت تھی لیکن تم سمجھتے ہو اگر وہ میری بیعت نہ کرتے تو ان کو وہ مقام حاصل ہو سکتا جو آج حاصل ہے ؟ آج لاکھوں لوگ ان کا نام ادب سے لیتے اور ان کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن اگر وہ میری بیعت نہ کرتے تو لاکھوں لوگ ان کا نام لیتے ہی منہ پھیر لیتے۔تو دنیا کی افسری اور گورنمنٹ انگریزی کے عہدے کسی کام نہیں آسکتے صرف اطاعت ہی تھی جو ان کے کام آگئی کیونکہ بڑے بھائی کا ایک چھوٹے بھائی کی بیعت کرنا جو اس کے بچوں کے برابر ہو معمولی قربانی نہیں۔ایک تلخ گھونٹ تھا جو ان کو پینا پڑا مگر اس تلخی نے ان کی ہمیشہ کی زندگی کو سنوار