خطبات محمود (جلد 3) — Page 38
خطبات محمود ۳۸ جلد سوم جبکہ دنیا میں آپ کی کوئی حیثیت نہ تھی آپ نے اعلان کیا کہ۔”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا"۔سے پھر آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا" سے دنیا میں سب سے خطرناک مخالفت شرکاء کی ہوتی ہے۔پنچابی میں تو مشہور ہے " شراکت دا دانہ سر دکھدے دی کھانا " تو سب سے بڑی مخالفت اعزاء اور اقرباء کی ہوتی ہے کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ انہی میں سے کھڑا ہو کر ایک شخص دنیا میں بڑائی اور عزت حاصل کرے۔وہ جو اس کے مقابلہ میں چپہ چپہ زمین کے لئے لڑتے مرتے ہیں وہ کب گوارا کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا اس کے پاس آجائے اس لئے وہ پورا زور لگاتے ہیں کہ اسے دبائیں۔حتی کہ جو بے بس ہو جاتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔وہ بھی کسی نہ کسی طرح دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ شاہ پور کے رئیسوں میں سے کسی کو جب خان بہادر کا خطاب ملا تو اسی خاندان میں سے ایک عورت نے جو بہت غریب تھی اپنے لڑکے کا نام خان بہادر رکھ دیا۔اس سے پوچھا گیا یہ تو نے کیا کیا۔تو کہنے لگی کہ معلوم نہیں میرا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا لیکن جب لوگ نام لیں گے تو جس طرح اس کے شریک کو خان بہادر کہیں گے اسی طرح اس کو بھی کہیں گے۔تو جو کچھ اور نہیں کر سکتے وہ نام ہی رکھ لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو آپ کے رشتہ داروں میں بھی ایک شخص نے امام ہونے کا دعوی کیا مگر کہتے ہیں فکر ہر کس بقدر ہمت اوست - حضرت مسیح موعود نے تو یہ دعوی کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے حکم بن کر بھیجا گیا ہوں اور چھوٹے درجہ کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے بادشاہوں پر بھی فرض ہے کہ میری اتباع کریں۔لیکن اس کی نام ہی رکھنے والی بات تھی اس نے دعوئی تو کیا مگر چوہڑوں کا امام ہونے کا۔ادھر حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا تو یہاں تک لکھ دیا کہ بادشاہ انگلستان پر بھی فرض ہے کہ مجھے مانے۔چنانچہ خود لکھ کر ملکہ کو جو اس وقت بادشاہ تھی بھیج دیا۔اس کے مقابلہ میں چوہڑوں کا امام ہونے کا دعوی کرنے والے کی دلیری اور اس کی جماعت کا یہ حال تھا کہ یہاں آکر جب تھانیدار نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی دعوی کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں نے کوئی دعوئی نہیں کیا۔کسی نے یونہی جھوٹی رپورٹ کر دی ہوگی۔تو شراکت