خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 508

خطبات محمود ۵۰۸ چاند سوم ایک سٹرائیک میں شریک ہو گئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر سخت ناراض ہوئے اور آپ نے بدر اور احکم میں ان کے اخراج کا اعلان کر دیا۔بعد میں ان کے ابا نے انہیں کہا کہ جاؤ اور معافی مانگو چنانچہ انہوں نے معافی مانگی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں معاف کر دیا۔یہ تغیرات تھے جو یکے بعد دیگرے ہوتے چلے گئے پھر مجھے وہ دن بھی یاد ہے کہ جہاں آج کل مرزا گل محمد صاحب کی دکانیں ہیں وہاں ایک چبوترہ ہوا کرتا تھا۔جس پر عام لوگ بیٹھ جایا کرتے تھے۔مرزا نظام الدین صاحب اور ان کے بھائی بھی وہاں بیٹھ جاتے اور بعض احمدی بھی بعض دفعہ بیٹھ جاتے۔ہم بچے بھی کبھی وہاں کھیلا کرتے تھے۔میری عمر اس وقت کوئی سات آٹھ سال کی تھی ہم وہاں کھیل رہے تھے کہ ایک چھوٹی سی لڑکی جو چار پانچ سال کی ہوگی وہاں کھیلتی ہوئی آئی اور کسی نے مجھے کہا کہ یہ لڑکی تمہارے بھیجے عزیز احمد کی منگیتر ہے (اس وقت تک شاید مرزا عزیز احمد صاحب سے میری ملاقات ابھی نہیں ہوئی تھی) میں نہیں جانتا کہ آج کل کے بچوں میں بھی یہ احساسات ہیں یا نہیں مگر اس وقت مجھے یہ بات بڑی ہی شرمناک معلوم ہوئی میرا دل دھڑکنے لگ گیا۔مجھے پسینہ آگیا اور میں نے کہا یہ منگیتر ہے۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ بچپن میں ہی یہ بات طے ہو چکی ہوگی پھر ہم بڑے ہوئے ، ہماری شادیاں ہو ئیں اور ہمارے بچے ہوئے۔پھر وہ بچے پہلے چھوٹے تھے پھر بڑے ہوئے اور اب ان کی شادیوں کا وقت آگیا ہے۔شاید یہ زمانے ان پر بھی آئے ہوں، شاید یہ لطائف ان سے بھی گزرے ہوں یہ تو وہی جانتے ہیں کہ یہ حالات ان پر گزرے ہیں یا نہیں مگر بہر حال ہم پر گزرے اور اب وہ وقت آگیا کہ ہمارے بچے خود شادیوں کے قابل ہو گئے ہیں اور وہی ذمہ داریاں جو ہم پر پڑیں ان پر بھی عائد ہونے والی ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کریں گے مگر بہر حال شادیوں کی خوشیاں اپنے اندر ایسا رنگ رکھتی ہیں جو ہر قوم میں خوشی کے جذبات پیدا کر دیا کرتی ہیں۔مگر بعض خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اندر غم کے جذبات بھی رکھتی ہیں اور انسان محسوس نہیں کر سکتا۔فرق نہیں کر سکتا کہ غم کہاں سے شروع ہوتا ہے اور خوشی کہاں ختم ہوتی ہے۔اگر ایک طرف دیکھا جائے تو وہ کہتا ہے کہ میں بڑا خوش ہوں اور دوسری نگاہ سے اسے دیکھا جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا غمگین ہوں۔وہ کچھ ایسا اجتماع ضدین ہوتا ہے کہ اس کی مثال دنیا میں بہت ہی کم چیزوں میں پائی جاتی ہے۔سفیدی اور سیاہی ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، نور اور تاریکی ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن خوشی اور غم کا