خطبات محمود (جلد 3) — Page 507
خطبات محمود جلد سوم ہے میں سکول کی طرف سے ایک دن آرہا تھا اس گلی میں سے گزر کر جس گلی میں سے گزر کر ہم مسجد میں آتے ہیں میرے سامنے قریباً میرا ہی ہم عمر ایک چھوٹا سا لڑکا گزر رہا تھا میرے ساتھ اس وقت شیخ یعقوب علی صاحب یا غالبا کوئی اور دوست تھے انہوں نے اس وقت اس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میاں تیرا بھتیجا آگیا ہے۔اس وقت کی عمر کے لحاظ سے بھتیجے کو نہ معلوم میں نے کیا سمجھا مجھے یاد ہے میں نے یہ الفاظ سنتے ہی ایک چھلانگ لگائی اور دوڑ کر گھر گیا۔میرے لئے یہ فقرہ اس وقت ایسا ہی شرمناک تھا جیسے کسی کو کہہ دیا جائے کہ غلطی سے تم مجلس میں ننگے آگئے ہو۔میں بھی یہ فقرہ سنتے ہی دوڑ پڑا انہوں نے کوشش کی کہ مجھے پکڑ کر ہم دونوں کو آپس میں ملا دیں لیکن میں ان سے پکڑا نہیں گیا۔کچھ دنوں کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور غالبا قاضی امیر حسین صاحب نے کوشش کر کے ہم دونوں کو اکٹھا کر دیا۔اس وقت تک بوجہ اس اختلاف کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مرزا سلطان احمد صاحب میں تھا اور بوجہ اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مرزا سلطان احمد صاحب سے ناراض رہتے تھے ہم کبھی اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔گھر اگر چہ ہمارے پاس پاس ہی تھے مگر مرزا سلطان احمد صاحب چونکہ باہر ملازم تھے اور ان کے بچے بھی باہر ان کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لئے اپنے بھتیجے کو دیکھنے کا میرے لئے یہ پہلا موقع تھا۔ان دونوں نے ہم کو اکٹھا کر دیا اور پھر اس کے بعد بھی یہ دونوں ہم کو آپس میں ملاتے رہے۔اس کے بعد انہوں نے میرے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کی کہ اپنے ابا سے کہو کہ یہ بچہ بیعت کرنا چاہتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کا ذکر کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بچے نے کیا بیعت کرنی ہے۔اس کو کیا پتہ کہ احمدیت کیا ہے اور ہم کس غرض کے لئے مبعوث ہوئے ہیں مگر یہ پھر بھی میرے پیچھے پڑے رہے اور مجھے کہتے رہے کہ جاکر کہو اس نے بیعت کرنی ہے۔آخر حضرت مسیح موعود عليه الصلواة والسلام نے مجھے اجازت دی اور فرمایا اسے جاکر گھر میں لے آؤ چنانچہ میں انہیں اپنے گھر لے گیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت کوئی تصنیف فرما رہے تھے آپ نے اس بچے کو دیکھا اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کوئی بات کی جو اس وقت مجھے یاد نہیں اور پھر ہم چلے آئے۔اس کے یہ معنے تھے کہ گویا انہیں ہمارے گھر میں آنے کا پاسپورٹ مل گیا۔پھر میں بھی بڑا ہوا اور وہ بھی بڑے ہوئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دستی بیعت کرلی۔پھر خدا کی قدرت وہ علی گڑھ گئے۔۱۹۰۷ ء میں