خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 461

۱۱۲ جلد سوم اللہ تعالیٰ کی صفت رقیب ہمیشہ مد نظر رکھو (فرموده ۲۸ جنوری ۱۹۳۸ء) ۲۸ - جنوری ۱۹۳۸ ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے میاں عبد الوہاب عمر خلف حضرت خلیفہ المسیح الاول کا نکاح امتہ اللطیف بیگم صاحبہ بنت مفتی فضل الرحمن صاحب حکیم کے ساتھ ڈیڑھ ہزار روپیہ مہر پر پڑھانے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان آیات میں جن کا رسول کریم ﷺ نے نکاح کے موقع پر انتخاب فرمایا ہے فرماتا ہے يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ۔اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً - سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنا مظہر بنایا اور مظہر ہونے کے لحاظ سے اس میں اپنی ان بعض صفات کا جو نظام کے ساتھ اور مخلوق کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں پر تو ڈالا اور ان کے ظہور اور ان کے جلوے کی طاقت اس میں رکھی۔خدا تعالٰی نے اس کے اندر طاقت رکھی ہے کہ وہ ربوبیت کا اظہار کرے، وہ رحمانیت کا اظہار کرے، وہ رحیمیت کا اظہار کرے، وہ مالکیت یوم الدین کا اظہار کرے، اسی طرح وہ سمیع ہونے کا، وہ بصیر ہونے کا، وہ غفور ہونے کا، وہ شکور ہونے کا، وہ ستار ہونے کا، وہ قادر ہونے کا، وہ قہار ہونے کا، وہ جبار ہونے کا، وہ مہیمن ہونے کا، وہ مومن ہونے کا اور جو دوسری صفات ہیں ان کا اظہار کرے گویا خدا تعالیٰ کی تصویر اور اس کی صفات کا انعکاس اس دنیا میں ہو۔