خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 453

خطبات محمود ۴۵۳ تاریخ پانچ ہزار سال تک تو پہنچ چکی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل اس وقت تک موجود ہے مگر ہے کوئی عمارت اتنے عرصہ کی جو موجود ہو۔حضرت ابراہیم اور ان کی بیوی ہاجرہ نے ایک طرف اور ان کی دوسری بیوی سارہ نے دوسری طرف ایک عمارت تیار کی۔دنیا میں تباہیاں آئیں، حکومتیں بدلیں، مذہب بھی بدلے مگر آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو وثوق سے کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابراہیم کی نسل سے ہیں۔یوں تو سارے انسان حضرت آدم کی اولاد سے ہیں مگر یہ تو اصولی بات ہے اور وہی لوگ یہ مانتے ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ نسل انسانی حضرت آدم علیہ السلام سے چلی مگر دوسرے لوگ اس بات کو اور رنگ میں پیش کرتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کا موجود ہونا ایسا تاریخی واقعہ ہے کہ کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔اسی طرح ہندوؤں میں بھی بعض ایسی نسلیں اور قومیں محفوظ چلی آتی ہیں۔جو دو ہزار سال تک پہنچتی ہیں گو ابراہیمی نسل جتنی پرانی کوئی نسل تاریخ سے ثابت نہیں ہوتی۔اب دیکھو یہ بقاء اس نسل کو کہاں سے ملی۔لازمی بات ہے کہ جس انسان کے نام کی طرف یہ نسل منسوب ہوتی ہے اس کے ازدواجی تعلقات کے اعلیٰ ہونے کی وجہ سے اس کو اس قدر بقاء حاصل ہوئی ہے۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شادی حضرت ہاجرہ سے نہ ہوتی تو ان کی نسل اتنی لمبی نہ چلتی۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجیت میں حضرت سارہ نہ آئیں تو ان کی اولاد کو اس قدر بقاء حاصل نہ ہوتی۔پس اس عمارت کی تعمیر میں حضرت ہاجرہ اور حضرت سارہ کا بھی دخل ہے ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور بیویاں بھی تھیں ان کی نسل کا آج کوئی پتہ نہیں لگا سکتا تو اس معاملہ میں جس طرح خاوند کا تعلق ہوتا ہے اسی طرح بیوی کا بھی تعلق ہوتا ہے اور یہ ایسا رشتہ ہے جس کا اثر سینکڑوں اور ہزاروں سال تک چلتا ہے۔مثلاً زمانہ کے لحاظ سے رسول کریم کو چودہ سو سال کے قریب اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پانچ ہزار سال کے قریب ہو گئے اگر یہ دنیا اور دو لاکھ سال تک قائم رہے تو اس وقت تک آپ کی نسلیں چلیں گی بلکہ رسول کریم ﷺ کی بادشاہت نے چونکہ قیامت تک چلنا ہے اس لئے آئندہ دنیا خواہ دس ہزار ارب سال تک چلے رسول کریم ﷺ کی نسل سے سادات قائم رہیں گے۔اسی طرح ابراہیمی نسل چلے گی۔غرض رسول کریم ﷺ نے نکاح کے موقع کے لئے یہ آیت منتخب فرما کر بہت بڑے 55