خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 452

خطبات محمود ۴۵۲ جلد سوم کسی کو نہ دیکھو گے کہ بے دانہ خریدتے وقت احتیاط سے کام نہ لے یعنی وہ یہ نہ دیکھے کہ بے دانہ اچھا ہو، بہترین ہو، تازہ ہو تو باوجود اس کے کہ یہ ایسی چیز ہے جو گھنٹہ دو گھنٹہ تین گھنٹہ سے زیادہ دیر تک اپنی اصلی حالت میں نہیں رہ سکتی اس کے متعلق بھی انسان ممکن احتیاط کرتا ہے۔پھر ان چیزوں کو لے لیں جن پر ایک یا دو دن گزر سکتے ہیں۔مثلاً بعض ایسے پھل ہیں جو دو چار پانچ دن تک خراب نہیں ہوتے۔کیلا ہے، انگور ہے یہ اس ملک میں جب پہنچتا ہے تو پانچ دس پندرہ دن تک خراب نہیں ہوتا۔ان چیزوں کے خریدتے وقت بھی کوئی بے احتیاطی نہیں کرے گا بلکہ دیکھے گا کہ وہ کام کی ہیں یا خراب تو نہیں۔پھر ان سے اوپر چل کر دیکھیں تو بعض چیزیں ایسی ہیں جو کچھ دیر تک رہ سکتی ہیں مگر ان کی بقاء بھی عارضی ہوتی ہے چھ ماہ یا سال کے لئے مثلا مٹی کے برتن یا کپڑے ہیں لیکن اگر کوئی دو پیسے کی ہنڈیا بھی خریدتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کس قدر پائدار ہے۔پھر وہ چیزیں جو سالہا سال تک چلتی ہیں ان میں تو احتیاط کی حد ہی ہو جاتی ہے۔اگر کوئی عمارت بنوائے تو انجینئر سے مشورہ لیتا ہے، سامان اچھا لگاتا ہے، اچھے مستری منتخب کرتا ہے اور کہتا ہے یہ کام روز روز نہیں کئے جاتے اس لئے چیز ا چھی لگنی چاہئے۔مگر ایک عمارت کتنا عرصہ چلتی ہے۔تاج محل اور قطب صاحب کی لاٹ بڑی شاندار عمارتیں ہیں لیکن قطب صاحب کی لاٹ تو ابھی مرمت ہوئی ہے اور تاج محل کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اگر جلد مرمت نہ کی گئی تو اس کے میناروں کے گرنے کا خطرہ ہے یہ ایسی عمارتیں ہیں جن پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور بادشاہوں نے تیار کرائیں مگر سو ڈیڑھ سو دو سو سال کے عرصہ میں قابل مرمت ہو گئیں۔جب ہر چیز کے متعلق ممکن احتیاط کی جاتی ہے تو اس کام کے متعلق کس قدر احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے جس کا اثر نہایت ہی دیر پا ہو۔ایسی چیزوں میں سے ہی انسانی نسل اور تعلقات ازواج ہیں۔ایسے ازواج بھی ہوتے ہیں جو ایک دو ہی پشت تک چلتے ہیں۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی نسل بند ہو جاتی ہے بلکہ یہ ہے کہ ان کی نسل آباء واجداد کو بھول جاتی ہے پھر کئی خاندان سات آٹھ پشتوں تک چلتے ہیں۔مگر یہ چیز ایسی ہے کہ اس کی بقاء بہت لمبی بھی ہو سکتی ہے۔جہاں مضبوط سے مضبوط عمارتیں سینکڑوں سال پر جاکر ختم ہو جاتی ہیں یہ عمارت ایسی ہے جو کہ یاد رہنے والی ہے۔