خطبات محمود (جلد 3) — Page 435
خطبات محمود ۴۳۵ جلد سوم اس کا کچھ نتیجہ نہیں ہو گا کیونکہ پیوند کے لئے ہم جنس ہونا اور ایک دوسرے سے مشارکت رکھنا ضروری ہے۔اسی طرح نکاح کے معاملہ میں ہونا چاہئے مگر چونکہ مشارکت اور ہم جنس ہونے کا علم انسان کو نہیں ہو تا بلکہ اس کا علم اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے اس لئے انسان کو صرف اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا ہے جو یہ ہے۔مَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت میں وہ ذریعہ انسان کو مل جاتا ہے۔پس نکاح سے قبل استخارہ کر لینا چاہئے استخارہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک استخارہ عام ہوتا ہے اور ایک استخارہ خاص - استخارہ عام پہلے کیا جاتا ہے اور استخارہ خاص بعد میں۔مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ پہلے ایک عورت کو پسند کر لیتے ہیں اور پھر استخارہ کرتے ہیں ایسے استخارہ میں عموماً خیال کا اثر پڑ جاتا ہے اور وہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ استخارہ ٹھیک ہوا لیکن اگر ان کا رحجان نہ ہو تو وہ اپنے خیال کے ماتحت سمجھتے ہیں کہ استخارہ الٹ پڑ گیا حالانکہ استخارے سیدھے اور الٹ نہیں پڑتے بلکہ ان کا خیال سیدھا اور الٹ پڑتا ہے جس سے وہ غلط نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں۔استخارہ نام یہ ہوتا ہے کہ قطع نظر کسی خاص شخصیت کے دعا کی جائے کہ اے خدا ہمارے - لئے ایسا جوڑا مہیا فرما جو جُنُودُ مُجَنَّدَةٌ۔ہو۔دو سرا استخارہ خاص اس وقت کیا جائے جب اس کا موقع آئے اور نام لے کر استخارہ کیا جائے اس طرح استخارہ عام استخارہ خاص کا محافظ ہو جاتا ہے۔بعض لوگ پہلا استخارہ کر لیتے ہیں مگر دوسرا نہیں کرتے اور بعض دوسرا کرتے ہیں اور پہلا نہیں کرتے۔چاہئے کہ دونوں استخارے کئے جائیں اس صورت میں نتیجہ صحیح لکھتا ہے۔اس طرح شادی کرنے سے سو (۱۰۰) میں سے ساٹھ کو فائدہ ضرور ہوتا ہے۔اور اگر ساٹھ کو فائدہ نہ ہو بلکہ اس سے کم ہو یہاں تک کہ دس فیصدی فائدہ ہو تو میرے نزدیک ۹۰ فیصدی کمی کو اولادیں پورا کر دیں گی اور وہ دس فیصدی فائدہ نوے کی حفاظت کا ذریعہ ہو جائے گا۔الفضل ۱۲ اگست ۱۹۳۷ء صفحه (۵۴) له الفضل ۲۸ - جولائی ۱۹۳۷ء صفحہ ۲ ه الاحزاب : ۷۲ بخاری کتاب بدء الخلق باب الارواح جنود مجندة