خطبات محمود (جلد 3) — Page 433
محمود ۳۳ موم جلد موسم کو بلایا ڈاکٹر نے کہا کہ اس کی طبیعت پر کچھ بوجھ ہے۔باپ نے اس کا علاج شروع کر دیا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ایک دن لڑکے کی دادی کو اس تصویر کی ضرورت پڑی وہ تلاش کرتی رہی مگر اسے نہ ملی آخر اس لڑکے کے ہاتھ میں اس نے وہ تصویر دیکھی اور اسے کہا کہ تم بڑے نالائق ہو جو میری تصویر اٹھا لائے ہو۔اس نے زور سے اس بچہ کا ہاتھ بھینچا اور کہا کہ یہ تصویر مجھے دے دو۔جونہی اس نے بچہ کا ہاتھ دبایا وہ بیہوش ہو کر گر گیا باقی لوگ گھر کے اسے ہوش میں لانے کے لئے کوشش کر رہے تھے مگر دادی اس کے ہاتھ کو مروڑ رہی تھی کہ کہیں تصویر ضائع نہ ہو جائے۔یہ کیفیت دیکھ کر بچہ کی والدہ نے اسے کہا کہ بچہ بے ہوش پڑا ہوا ہے یہ معمولی چیز ہے کیا ہوا اگر اس کے پاس ہے۔بچہ کی دادی نے کہا کہ یہ تصویر میری جوانی کے زمانہ کی ہے کیا میں دوبارہ جوان ہو سکتی ہوں کہ اس تصویر کو اس کے ہاتھ میں رکھ کر ضائع کر دوں۔بچہ اس وقت ہوش میں آ رہا تھا جونہی اس نے دادی کے منہ سے یہ فقرہ نا کہ یہ میری جوانی کے زمانہ کی تصویر ہے جھٹ اس نے یہ تصویر پھینک دی اور تعجب سے کہا کہ کیا یہ تمہاری ہے۔در اصل بات یہ تھی کہ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ تصویر اس کی دادی کی ہے بلکہ اس کے ذہن میں یہ خیال سمایا ہوا تھا کہ یہ کیسی خوبصورت لڑکی کی تصویر ہے جس کے متعلق وہ چاہتا تھا کہ اس سے شادی کرے۔اس کی دادی کی تصویر اور اس کے بڑھاپے کی حالت میں بڑا فرق تھا۔اس کے رخسار اندر کو گھس گئے تھے بال سفید ہو گئے تھے بلکہ وہ گنجی ہو گئی تھی کمر کبڑی ہو گئی تھی مگر اس کے پوتے نے اپنے ذہن میں یہ اندازہ لگایا کہ ایک نوجوان خوبصورت لڑکی کی تصویر ہے میں اس سے شادی کروں گا۔تو شکل کچھ چیز نہیں ایک عرصہ کے بعد شکل بدل جاتی ہے۔پوتے، پڑپوتے اپنی دادی اور پڑدادی کی ابتدائی شکلوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔بچے حقیقت میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ کی شکلیں ابتداء سے اسی طرح کی ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہمارے ماں باپ کی شکلیں پہلے اور تھیں اور اب بدل گئی ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ بڑے ہو کر ان کی شکلیں بھی بدل جائیں گی۔غرض شکل کچھ چیز نہیں کہ اس کو شادی کے معاملہ میں اہمیت دی جائے۔ایسا ہی علم بھی شادی کے معاملہ میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔ہزاروں ایسے عالم گزرے ہیں جن کی اولادوں میں علم نہیں تھا بلکہ بعض ایسے عالم بھی ہوئے ہیں جو اپنے علم کے باعث بہت مشہور تھے مگر ان کی اولادیں بالکل جاہل تھیں۔بعض ایسے جاہل ماں باپ بھی دیکھے گئے ہیں جن