خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 432

خطبات محمود ۴۳۲ جلد سوم مرد اعلیٰ قابلیتوں اور اعلیٰ طاقتوں والے ہوتے ہیں جن کی اعلیٰ قابلیتوں اور اعلی طاقتوں والی عورتوں سے شادی ہو جاتی ہے اور ان سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے ان میں وہی لیاقت، وہی نم، وہی زیر کی اور وہی ذہانت ہوتی ہے جو ان کے والدین میں ہوتی ہے۔ایسے بچے جب بڑے ہو کر کے میدان میں آتے ہیں تو دوسروں کے لئے نمونہ بن جاتے ہیں، جب سیاست کے میدان میں آتے ہیں تو لوگ ان کی قابلیت دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں، جب صنعت و حرفت کے میدان میں آتے ہیں تو اپنی لیاقت کا سکہ لوگوں پر بٹھا دیتے ہیں، ان لوگوں کو تاریخیں محفوظ کر لیتی ہیں اور لوگوں میں ان کی تعریف کے چرچے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ نکاح کا نتیجہ ہوتا ہے۔پس نکاح کے معاملہ میں انسان کو بہت زیادہ ہو شیاری سے کام لینا پڑتا ہے۔لوگ جب بازار میں جاتے ہیں اور دکانوں سے سودا خریدتے ہیں تو کس قدر احتیاط سے کام لیتے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی پھل خرید نے جاتا ہے تو کس قدر ہو شیاری سے تم پھل ہاتھ میں اٹھاتے ہو، غور سے دیکھ کر اور چکھ کر پسند کرتے اور پھر قیمت دریافت کرتے ہو۔برتن خرید نے جاتے ہو تو اس کو بجا کر دیکھ لیتے ہو کہ کہیں اس میں کوئی نقص تو نہیں، کپڑا خریدنے جاتے ہو تو کھینچ کر دیکھتے ہو کہ کہیں پرانا تو نہیں، اس کا نمبر دیکھتے ہو ، کار خانہ کا نام جس میں وہ کپڑا تیار ہوا ہو دریافت کرتے ہو، تین چار اور دکانداروں سے اس کپڑے کی قیمت پوچھ کر موازنہ کرتے ہو ان سب باتوں کے بعد کپڑا خریدتے ہو۔تو جس قدر ان اشیاء کے خریدنے میں لوگ ہوشیاری سے کام لیتے ہیں اس سے بڑھ کر شادی کے معاملہ میں ہوشیاری سے کام لینا چاہئے کیونکہ شادی کے نتائج بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔شادی کے معاملہ میں اکثر حصہ مردوں کا ان امور کی طرف خاص طور پر خیال نہیں کرتا جن کی طرف توجہ کرنی ضروری ہوتی ہے۔بعض لوگ صرف شکل دیکھتے ہیں حالانکہ شکل کا اثر آئندہ زمانہ پر کچھ نہیں پڑتا۔ایک عورت کے پوتے یہ نہیں جاسکتے کہ ہماری دادی کی شکل موجودہ شکل سے پہلے کیا تھی۔فرانس میں ایک لطیفہ مشہور ہے ایک لڑکا تھا جو اپنی دادی کے کمرہ سے اس کی بعض چیزیں اٹھا لے جایا کرتا تھا۔ایک دن اتفاقاً اس لڑکے کو ایک چھوٹی سی تصویر مل گئی جو اسے بہت پسند آئی وہ اسے اٹھا کر لے گیا اس کے بعد اس نے گھر آنا کم کر دیا لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دیا وہ اکیلا جنگل میں چلا جاتا اور سارا دن وہیں گزارتا۔باپ نے جب اپنے لڑکے کی یہ حالت دیکھی تو اسے فکر لاحق ہوا کہ میرے بچے کو کیا ہو گیا ہے۔آخر اس نے ڈاکٹر