خطبات محمود (جلد 3) — Page 431
ی محمود ۴۳۱ جلد سوم استخارہ عام اور استخارہ خاص (فرموده ۲۶ - جولائی ۱۹۳۷ء) ۲۶۔جولائی ۱۹۳۷ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے میاں محمد حنیف صاحب ولد ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب پیشنر ساکن سٹروعہ ضلع ہوشیار پور کا نکاح محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ ہمشیرہ مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری سے مبلغ - / ۵۰۰ روپے مہر پر پڑھائے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح کی وہ عبارات جو مسنون ہیں اور جو رسول کریم ا نکاح کے موقع پر ہمیشہ تلاوت فرمایا کرتے تھے اپنے اندر ایسے ہی وسیع مطالب رکھتی ہیں جیسا کہ نکاحوں کے نتائج وسیع ہوتے ہیں۔بظاہر نکاح ایک چھوٹی سی چیز ہے ایک مرد آتا ہے اور جائز ذریعہ سے دوسرے گھر کی ایک عورت اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔لیکن اگر ہم غور سے دیکھیں تو بعض نکاح اتنی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں کہ ان کی اہمیت دنیا کے اہم ترین واقعات پر حاوی ہو جاتی ہے۔دنیا میں مختلف قومیں ہیں جن کو اپنی قومیت پر فخر ہے مثلاً سادات ہیں یہ ایک نکاح کا ہی نتیجہ ہیں۔جب ایک انسان یہ کہتا ہے کہ میں سید ہوں تو درحقیقت وہ ایک لمبا عرصہ قبل کے ایک نکاح کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس انسان کی اولاد میں سے ہوں جس نے رسول کریم ان کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے شادی کی تھی اسی طرح ایک قریش قوم سے تعلق رکھنے والا جب یہ کہتا ہے کہ میں قریشی ہوں تو وہ بھی ایک شادی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پھر قوموں کے علاوہ ہم خاندانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی عزتیں اور مراتب بھی نکاحوں پر مبنی ہوتے ہیں۔بعض