خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 427

۴۲۷ ۱۰۵ خطبات محمود میاں بیوی کے رشتہ کی بنیاد اعتماد پر ہے (فرموده ۲۰۔جولائی ۱۹۳۷ء) ۲۰۔جولائی ۱۹۳۷ء مولوی محمد اعظم صاحب بو تالوی مولوی فاضل کا نکاح چار سو روپیه مهر پر مسلماة امتہ الحفیظ صاحبہ بنت پیر محمد عبد اللہ صاحب قریشی سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح کے معاملہ میں شریعت نے تقویٰ اللہ پر زور دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح اعتبار پر مبنی ہوتا ہے۔مرد عورت پر کلی اعتبار کرتا ہے اور عورت مرد پر کلی اعتبار کرتی ہے۔ایک دوسرے کے اموال ایک دوسرے کے قبضے میں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔وہ ایک دوسرے کو آرام پہنچاتے ہیں اور اگر چاہیں تو ایک دوسرے کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔غرض دنیا کا صرف یہی ایک رشتہ ہے جو بے قانون کی حکومت کو چلا رہا ہے۔اسلام میں اس بارہ میں قانون ہیں لیکن وہ قانون ابتدائی نیتوں کے متعلق ہیں یا پھر فسادات کے بارہ میں ہیں درمیانی عرصہ کے بارہ میں نہیں بلکہ رشتہ کا درمیانی عرصہ کامل اعتماد پر ہے۔دنیا کے تمام کاموں میں شرطیں ہوتی ہیں ملازمت میں بھی بعض افسر اور ماتحت میں اور تعلیم میں بھی یعنی استاد اور شاگرد میں لیکن اس میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔نہ میاں کی طرف سے، نہ بیوی کی طرف سے، نہ اوقات کی پابندی ہوتی ہے نہ خدمات کی پابندی ہوتی ہے اور