خطبات محمود (جلد 3) — Page 428
خطبات محمود ۴۲۸ جلد سوم اس طرح بے شرط طور پر یہ رشتہ محبت کا موجب ہوتا ہے۔لیکن اگر شرطوں سے اسے مقید کرو تو یہی رشتہ عذاب بن جائے۔غرض چونکہ اس میں کوئی شرط نہیں ہوتی اور اس میں ایک دوسرے کو نقصان بھی پہنچایا جاسکتا ہے اس لئے شریعت نے تقویٰ پر زور دیا ہے کیونکہ یہ تعلقات بغیر اعتماد اور دل کی درستی کے نہیں چل سکتے۔بالکل اسی طرح امام اور ماموم اور پیر اور مرید کا تعلق ہوتا ہے وہاں بھی شریعت نے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی۔جب تک اعتماد قائم ہے اس وقت تک یہ رشتہ بھی قائم ہے جب اعتماد نہ رہا تو یہ رشتہ بھی قائم نہیں رہتا۔کئی جاہل اور احمق لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں خلیفہ کی ذات پر اعتراض ہے ہم جماعت میں نہیں رہ سکتے۔میں کہتا ہوں کہ یہ رشتہ بھی اعتماد پر مبنی ہے اگر اس اعتماد کو نکال لیا جائے تو بیعت نہیں رہ سکتی کیونکہ یہ ملازمت کا سوال نہیں کہ چھ گھنٹے کے بعد ملازم کا حق ہوتا ہے کہ وہ آرام کرے۔کیا کوئی بیوی کہہ سکتی ہے کہ اب چونکہ اتنے گھنٹے وہ کام کر چکی ہے اس لئے اب بچوں کو جو رو رہے ہیں چپ کرانا خاوند کا کام ہے اس کے کام کا وقت گزر چکا ہے ؟ تو اعتماد والا رشتہ وہی ہوتا ہے کہ جس میں نہ صبح کے وقت کی پابندی ہوتی ہے نہ شام کی اور نہ ہی کوئی حد بندی ہوتی ہے اسی طرح امام اور متبع، خلیفہ اور مبائع میں اعتماد کا رشتہ ہے جب تک اعتماد قائم ہے یہ تعلق بھی قائم ہے اگر اعتماد ٹوٹ جائے تو یہ کہنا کہ لفظی طور پر یہ رشتہ قائم ہے بالکل غلط ہے۔شکوک انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں مگر ان کو حد بندی کے اندر رکھنا یہ اپنے بس کی بات ہے۔اگر کوئی حد بندی میں نہیں رکھ سکتا تو وہ اس تعلق سے نکل گیا اور اگر ان کو اپنے دل کے اندر ہی رکھتا ہے اور لوگوں میں ان کا یہ پروپیگنڈہ نہیں کرتا تو کسی کو کیا معلوم کہ اس کے دل کے اندر کیا شکوک ہیں۔پس اس سے فتنہ نہیں پھیلے گا کیونکہ ان کا علم صرف خدا کو ہوگا جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کو کرے گا۔لیکن جب وہ شخص دوسروں کو بتاتا ہے تو شک کی حدود سے نکل کر یہ پروپیگنڈا کی حد میں داخل ہو جاتا اور اس صورت میں یہ کہنا کہ میں بیعت پر قائم ہوں محض دھوکہ ہوتا ہے اور اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کی میں نے بیعت کی ہے اس کو تھوڑا تھوڑا بد نام بھی کرتا ہوں۔غرض ہر معقول سے معقول انسان ایسے شخص کو پاگل کہے گا خواہ وہ تھوڑا مخالفانہ پروپیگنڈہ کرے یا زیادہ۔کہتے ہیں کسی ملا سے کسی نے دریافت کیا تھا کہ اگر کسی کی تھوڑی سی ہوا خارج ہو جائے تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ اس نے کہا