خطبات محمود (جلد 3) — Page 421
۳۱ جلد موم ہو ارادہ بد ہو اس کی جزاء اچھی نہیں ہوتی۔مگر ایسا انسان جس کو بدی کی خبر ہی نہیں بلکہ جو کچھ وہ کرتا ہے ماں باپ کو دیکھ کر کرتا ہے اور اس کی اس کو عادت ہو گئی ہے وہ سزا کا مستحق نہیں سکتا۔مثلاً ایک ہندو اور ایک عیسائی کو جو شراب پینے کے نسلاً بعد نسل عادی ہیں عذاب نہیں دیا جائے گا ہاں توحید کے نہ ماننے کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔مگر ایک مسلمان کو جو شراب پیتا ہے ضرور سزا ملے گی کیونکہ اسلام میں اللہ تعالٰی نے شراب حرام قرار دی ہے۔يُطْعِمُونَ الطَعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيماً وَاسِيرًا میں ضمیر اللہ تعالی کی طرف بھی جاتی۔ہے بعض مئومنین خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق میں اس قدر محو اور رنگین ہو جاتے ہیں کہ ان صفات کا ان سے ظہور ہونے لگتا ہے جو خدا تعالٰی میں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس ایک شخص نے ایک آدمی کے متعلق شکوہ کیا کہ وہ داڑھی نہیں رکھتا۔آپ نے فرمایا ہم تو لوگوں کے قلوب کی اصلاح کرنے کے لئے آئے ہیں جب ان کو ہم سے محبت کامل ہو جائے گی تو پھر وہی کریں گے جو ہم کرتے ہیں اور ہماری طرح ڈاڑھی رکھ لیں گے۔بعض دفعہ عارضی محبت بھی انسان میں نمایاں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔ایک مجسٹریٹ صاحب احمدی ہوئے تو مجھے کہنے لگے مجھے آپ کے کوٹ کا ناپ چاہئے آئندہ میں آپ کے کوٹ جیسا کوٹ پہنا کروں گا۔ان کو عارضی محبت تھی کیونکہ بعد میں وہ احمدیت سے پھر گئے۔لیکن مستقل محبت تو انقلاب عظیم پیدا کر دیتی ہے۔مئومنین خدا تعالیٰ کی صفات ستار، باسط رحمان، رحیم، مهیمن واسع وغیرہ اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں اور عشق میں نہایت بلند مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔غرض نیکی کا انتہائی مقام جو یورپین فلسفی بیان کرتے ہیں وہ اسلام کا ابتدائی درجہ ہے۔اسلام نے نیکی کے طبعی نتائج بھی بیان کئے ہیں۔مثلاً نماز ہے اس کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ۔شه کہ نماز فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔پس فحشاء اور منکر سے روکنا نماز کا طبعی نتیجہ ہے۔اسی طرح اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی اطاعت کا طبعی نتیجہ فوز عظیم بیان کیا گیا ہے جیسا کہ ان آیات میں ہے جو اس موقع پر پڑھی جاتی ہے اور جن میں تقویٰ پر زور دیا گیا ہے ایک آیت یہ ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عظيماً۔ل یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرکے گا اور ان کے احکام کے مطابق اپنے عمل بنائے گا اسے فوز عظیم کا مقام حاصل ہو گا۔اس میں مومن کو اعلیٰ مقام کی طرف کھینچ کر لانا مقصود ہے اور جب ایک شخص کو رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور پیروی میں فوز عظیم '