خطبات محمود (جلد 3) — Page 418
خطبات محمود ۴۱۸ جلد سوم خیال ہے اسلام نے نیکی کے مدارج بیان کئے ہیں۔مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے۔يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبّهِ مِسْكِينَا وَيَتِيمَا وَاسِيرًا - سے یعنی مومن کھانا کھلاتا ہے۔مسکینوں، تیموں اور اسیروں کو ایسی حالت میں جب خود اس کھانے کی حاجت ہوتی ہے۔یعنی باوجود احتیاج کے وہ یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں جس سے نیکی کی جاتی ہے اس سے بدلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غریبوں اور مسکینوں کو جب مومن کھانا کھلاتا ہے تو اس وقت اس کا یہ جذبہ دوسرے تمام جذبات پر حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ ان سے سلوک کرے۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات انسان پر ایسی حالت آجاتی ہے کہ اس کو سب کچھ بھول جاتا ہے اور صرف ایک امر کی طرف ہی اس کا خیال لگ جاتا ہے۔مثلاً ایک بچہ پانی میں ڈوب رہا ہو تو اس کے ماں باپ سب کچھ بھول جائیں گے حتی کہ وہ یہ بھی بھول جائیں گے کہ انہیں تیرنا آتا ہے یا نہیں اور پانی میں کود پڑیں گے۔اس وقت ان میں صرف یہی جذبہ ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ بچ جائے۔بعض اوقات ایسا ہوا کہ بچہ پانی میں ڈوب رہا ہے والدین اپنے جذبہ کے ماتحت پانی میں کود پڑے اور خود ڈوب گئے اور بچہ کو دوسرے لوگ زندہ نکال لائے۔پس یہ مقام جب بھی آجائے اس وقت انسان بے اختیار ہوتا ہے اور مجبور ہوتا ہے کہ وہ فعل کر گزرے اور بے اختیاری کی حالت میں اس سے وہ فعل صادر ہوتا ہے۔جب بچہ ڈوب رہا ہو اس وقت ماں باپ کو ہرگز یہ خیال نہیں آتا کہ ہمیں تیرنا نہیں آتا اگر انہیں اس بات کا خیال ہو کہ ہمیں تیرنا نہیں آتا تو وہ کبھی نہ کو دیں وہ سمجھتے بچہ تو ڈوب رہا ہے ہم تیرنا نہیں جانتے اگر ہم کو دے تو ہمارا بھی یہی انجام ہو گا۔پس یہ حالت بے اختیاری کی ہوتی ہے۔اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کے سپرد ایک مہمان کیا اور فرمایا اس کو گھر لے جاؤ اور اس کی خاطر کرو وہ صحابی اس مہمان کو گھر لے گیا ( اس وقت ابھی فتوحات نہیں ہوئی تھیں اور مسلمان بہت غربت کی حالت میں تھے۔اس صحابی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں آج ایک مہمان لایا ہوں اس کی خاطر کرو۔بیوی نے کہا گھر میں آج صرف ایک آدمی کا کھانا ہے۔میں نے یہ سوچا تھا کہ ہم دونوں نہ کھائیں گے اور یہ کھانا اپنے بچوں کو کھلا دیں گے۔یہ سن کر اس صحابی کو بہت صدمہ ہوا کیونکہ اس وقت صرف یہ جذبہ غالب تھا کہ مہمان بھوکا نہ رہے باقی سب جذبات بھول گیا۔بیوی نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے کہا میں بچوں کو یونہی بہلا دوں گی اور وہ کھانا مہمان کو کھلا دیں گے۔صحابی نے کہا جب مہمان کھانا کھانے لگے گا اور بچوں کو دیکھے گا تو