خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 417

خطبات محمود ۴۱۷ جلد سوم ہمارے مذہب کی کمزوری ہے لیکن اگر ہم غور سے دیکھیں تو یہ بالکل لغو اور باطل خیال نظر آتا ہے۔جن لوگوں نے یہ فلسفہ پیش کیا ہے وہ نیکی کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ نیکی وہ ہے جس سے زیادہ فائدہ زیادہ وجودوں کو حاصل ہو۔فلسفی لوگ چونکہ خدا کے وجود پر اعتقاد نہیں رکھتے بلکہ ان کا زیادہ تر اعتبار طبیعات اور مادیات پر ہوتا ہے اس لئے ان کے نزدیک جو نیکی کی تعریف ہے وہ بہت ادنی ہے۔انگریزی میں نیکی کو GOOD کہتے ہیں اور GOOD کی تعریف وہ یہ کرتے ہیں جس کام کے کرنے کا زیادہ فائدہ ہو اور وہ فائدہ زیادہ وجودوں کو پہنچے۔اب ایک طرف اس تعریف کو دیکھا جائے اور دوسری طرف اس خیال کو جو یورپین فلسفی نیکی کے متعلق پیش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال کس قدر احمقانہ اور جاہلانہ ہے۔تعریف وہ یہ کرتے ہیں کہ نیکی وہ ہے جس کا زیادہ فائدہ ہو اور زیادہ وجودوں کو فائدہ پہنچے مگر فلسفہ یہ بیان کرتے ہیں کہ نیکی اگر کسی بدلہ کی امید پر کی جائے تو وہ نیکی نہیں رہتی یہ دونوں باتیں کس قدر ایک دوسری کے خلاف ہیں۔اس خیال کے ماتحت جب انسان نیکی کرنے کا فیصلہ کرے گا تو لازماً اس کے ساتھ جزاء کا سوال آجائے گا۔یہ فلسفہ بعینہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں ڈرتال لوگوں کو وظیفہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں اس کے ذریعہ جو چاہو گے ہو جائے گا مگر ساتھ ہی اس امر کا خیال رکھنا کہ دوران وظیفہ میں بندر کا خیال نہ آجائے۔جب وہ جا کر وظیفہ کرتا ہے تو لازماً اسے بندر کا خیال آجاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے چونکہ بندر کا خیال آگیا تھا اس لئے وظیفہ کا اثر نہیں ہوا۔پھر وہ وظیفہ کرتا ہے اور پھر بندر کا خیال آجاتا ہے اور وہ اسی چکر میں پڑا رہتا ہے اور کبھی اس کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔یہی حال یورپین فلاسفروں کا ہے کہ ایک طرف تو وہ نیکی کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ نیکی وہ ہے جس سے زیادہ فائدہ زیادہ سے زیادہ وجودوں کو پہنچے مگر دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ جزاء سامنے رکھ کر نیکی کرنے سے نیکی قائم نہیں رہ سکتی۔گویا جس چیز سے انسان کو روکا جاتا ہے لازماً کرتے وقت اس کو اس کا خیال آجائے گا۔اور اس طرح اس کی نیکی نیکی نہ رہے گی بلکہ اس اصل کے ماتحت کبھی بھی کوئی فعل نیکی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نیکی کرتے وقت طور پر کسی نہ کسی رنگ میں بدلہ کا خیال آجاتا ہے اور اس خیال کا نہ آنا نا ممکن ہے۔اگر نیکی کی یہی تعریف تسلیم کی جائے جو یورپین فلسفی کرتے ہیں تو کوئی شخص بھی نیکی نہیں کر سکتا اس لئے اس فلسفہ سے بدتر احمقانہ فلسفہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔اسلام نے جو نیکی کا حقیقی فلسفہ بیان کیا ہے اس کے متعلق یورپین فلسفیوں کا یہ کہنا کہ وہ لالچ اور حرص پیدا کرتا ہے بالکل احمقانہ