خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 394

خطبات محمود ۳۹۴ جلد سوم خیریت تو ہے گھر میں کوئی بیمار تو نہیں؟ اسی طرح جب کسی کی دوسری شادی کے متعلق لوگوں میں گفتگو ہوتی ہے تو بعض مسکراتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہوتے ہیں وہ کئی قسم کی باتیں بناتے ہیں جو عقیدت مند ہوتے ہیں وہ جواز کے دلائل دینا شروع کر دیتے ہیں اور بیان کرنے لگتے ہیں کہ یہ یہ وجوہات ہیں جن کے باعث دوسری شادی کی ضرورت پیش آئی ہے میں جہاں تک سمجھتا ہوں قرآن کریم میں کوئی ایسی بات نہیں جس کے لئے کسی مسلمان کو معذرت کی ضرورت پیش آئے دراصل برائی وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ برائی قرار دے اور نیکی وہ ہے جسے خدا تعالیٰ نیکی قرار دے ہم کون ہیں جو خود ایک فعل کو برائی اور دوسرے کو نیکی قرار دے لیں اور وہ بھی اس لئے کہ چند مغربی اسے برا کہتے ہیں اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے پہلے پہل جب میری توجہ آیت فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلث وَرُبَعَ۔فان خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً - سے کی طرف ہوئی تو اس وقت حضرت خلیفہ المسیح الاول کا زمانہ تھا حافظ روشن علی صاحب مرحوم بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے پڑھا کرتے تھے گو ہم سبق نہیں تھے وہ منتہی تھے اور میں مبتدی لیکن بعض مبقوں میں ہم جمع ہو جایا کرتے تھے خصوصاً قرآن کریم اور بخاری کا درس ہمارا اکٹھا ہوا کرتا تھا گو ان کا ایک دور پہلے ختم ہو چکا تھا۔بسا اوقات ہم میں قرآنی آیات کے متعلق گفتگو ہوا کرتی تھی۔مجھے یاد ہے اس آیت کے متعلق ہماری جب گفتگو ہوتی تو میں ان سے ذکر کر تا کہ قرآن کریم کی اس آیت سے تو دو دو تین تین چار چار شادیاں اصلی معلوم ہوتی ہیں یعنی یہ کہ دو تین یا چار شادیاں کرنی چاہئیں اور اِن خِفْتُم کے ساتھ واحِدَةً آیا ہے۔یعنی پہلا اصل زیادہ شادیاں کرنے کا ہے اس کے بعد یہ حکم ہے کہ اگر تم زیادہ نہیں کر سکتے تو ایک کرو اور جس چیز کو شریعت نے مقدم رکھا ہے۔اس کو ہم مئوخر کیوں کریں اور ایک اصل کو محض یہ سمجھ کر کہ موجودہ زمانہ میں اس کی استثنائی صورتیں زیادہ ہیں کیوں چھوڑیں۔مثلاً شریعت نے حج کا حکم دیا ہے لیکن اس کے ساتھ جو شرائط رکھی ہیں ان کے مطابق سو (۱۰۰) اشخاص میں سے ایک ہی حج کو جاسکتا ہے پھر دور کی مسافت اور اسی قسم کی اور باتوں کو دیکھا جائے تو ہزاروں میں سے ایک شخص جاسکتا ہے اگر ہزار میں سے ایک شخص حج کو جائے تو ایک لاکھ میں سے سو جاتا ہے اور ایک کروڑ میں سے دس ہزار جاتا ہے اور آٹھ کروڑ میں سے (۸۰) اسی ہزار جاتا ہے مگر اب جو لوگ حج کو جاتے ہیں ان کی تعداد اتنی نہیں ہوتی۔حج کو جانے والوں کی تعداد عام طور پر اوسط تعداد آٹھ یا دس ہزار ہوتی ہے لیکن کتنے