خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 340

خطبات محمود ۳۴۰ جلد سوم ایک کرو اور ایک ہی ملک کے ماتحت ہیں جہاں سے کوئی تحریک اٹھتی ہے اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دنیا کو خدا سے دور کر دیا جائے۔یہ چیز پہلے کبھی دنیا میں ایک وقت میں نظر نہیں آتی۔دوسری چیز جو منفردانہ رنگ رکھتی ہے یہ ہے کہ پہلے جتنے حملے ہوتے تھے وہ فلسفیانہ ہوتے تھے اور فلسفہ کی ساری بنیاد واہمہ پر ہے۔مگر اس وقت جتنے حملے ہوتے ہیں وہ سائنس کی بناء پر ہوتے ہیں اور سائنس کی بنیاد مشاہدہ پر ہے۔فلسفیانہ اعتراضات کے جواب میں تو انسان بڑی دلیری سے کہہ سکتا ہے کہ یہ تمہارے ڈھکوسلے اور دل کے خیالات ہیں لیکن مشاہدہ پر بنیاد رکھتے ہوئے جب ایک سوال پیش کیا جائے تو اس وقت اس کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ کہنا کہ "ایسہ جہان مٹھاتے اگلا کن ڈٹھا کہ اس دنیا کی عیش و عشرت پر لطف ہے مرنے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ کس نے دیکھا ہے کہ وہاں آرام و آسائش میسر آسکے گی۔ایک فلسفیانہ خیال ہے اور اسے سن کر ایک انسان متأثر ہو سکتا ہے مگر دوسرا یہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک کہاوت بنائی گئی ہے حقیقت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔لیکن ذرات عالم کی بناوٹ پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھتے ہوئے اور یہ ثابت کرتے ہوئے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ ایک ایسی تنظیم کی صورت رکھتا ہے کہ کارخانہ عالم خود بخود چلتا چلا جاتا ہے۔جب کہا جائے کہ اس دنیا کو چلانے کے لئے کسی بیرونی ہستی کی ضرورت نہیں تو یہ سوال ایک نیا رنگ اختیار کر لیتا ہے جو پہلے امر میں نہیں تھا۔پھر پہلے خدا تعالٰی کے وجود کے خلاف صرف فلسفی کھڑا ہوا کرتے تھے مگر اب علم النفس والے بھی کھڑے ہیں، علم ہندسہ والے بھی کھڑے ہیں، علم سائنس والے بھی کھڑے ہیں، علم طبقات الارض والے بھی کھڑے ہیں، علم ہیئت والے بھی کھڑے ہیں غرض تمام علوم مشترکہ طور پر ایک نتیجہ پیش کرتے ہیں اور یہ حملہ پہلے سے بہت زیادہ سخت ہے۔پہلے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ ایک فلسفی نے خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کیا نہ معلوم اس کے قول میں سچائی ہے یا نہیں مگر اب یہ کہا جاتا ہے کہ جس رنگ میں دیکھو یہی نتیجہ نکلے گا کہ خدا نہیں۔علم ہیئت سے دیکھو تو بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ خدا نہیں، علم حیات کے ماتحت دیکھو تو بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ خدا نہیں، علم طبقات الارض کے ماتحت دیکھو تب بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ خدا نہیں، اسی طرح اگر علم النفس کے ذریعہ خدا کو معلوم کرنا چاہو تب بھی یہی معلوم ہوگا کہ خدا نہیں، اگر علم ہندسہ کے ذریعہ