خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 313

خطبات محمود ۳۱۳ ۸۵ جلد سوم نکاح کے معاملہ میں خدائی مدد کی ضرورت فرموده ۲۸ مارچ ۱۹۳۳ء) ۲۸- مارچ ۱۹۳۳ء بعد نماز ظہر جناب چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔اے کے برادر خورد چوہدری نور محمد صاحب کا نکاح زینب بنت مولوی غلام رسول صاحب مرحوم ساکن اوجلہ کے ساتھ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسانی اعمال بالکل اس شخص کی حرکات سے مشابہ ہیں جو رات کی تاریکی میں ایک گھانس والے جنگل میں ہاتھ مار مار کر اپنی کوئی گمشدہ چیز تلاش کر رہا ہو۔جس طرح وہ شخص ہر لمحہ اس خطرہ میں ہے کہ بجائے اس کے کہ اس کی گمشدہ چیز ہاتھ آجائے اسے سانپ یا بچھو یا کوئی اور زہریلا کیڑا کاٹ کھائے اور بجائے اپنی کھوئی ہوئی چیز پانے کے وہ جان سے ہی جائے۔اسی طرح تمام انسانی اعمال بالکل یہی رنگ رکھتے ہیں۔خواہ وہ اعمال اچھے سے اچھے ہوں یا برے سے برے۔یہ نہیں کہ صرف برے اعمال اور گناہ ہی انسان کو خطرہ کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات نیکیاں بھی انسان کو تباہی کے گڑھے کے قریب کر دیتی ہیں۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نیکیاں کرتا کرتا جنت کے قریب پہنچ جاتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ جنت میں داخل ہو جائے کہ اسے ایسا جھٹکا لگتا ہے جس سے وہ دوزخ میں جا پڑتا ہے۔لے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ - لو کہ بعض نماز پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ بجائے اللہ تعالیٰ کا قرب اور انعام حاصل کرنے کے اس کا غضب حاصل کر لیتے ہیں۔