خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 298

خطبات محمود ٢٩٨ جلد سوم خوب ہنسا کہ یہ نبی ہے۔مگر خدا تعالٰی کی عجیب حکمت ہے اسی رات کوٹھے پر سے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ پہنچے اگر ا اور مرگیا۔تو اس نے جس رنگ میں استہزاء کیا تھا وہی آپ کی صداقت کے لئے ایک نشان بن گیا۔غرض اللہ تعالٰی کے مامورین سے تعلق رکھنے والی ہر چیز ایک نشان ہوتی ہے اور جس چیز کو دشمن ان کے ذلیل کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے وہی ان کی صداقت پر نشان ہو جاتی ہے۔اس بات سے ہم یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ اگر انسان کے دل میں تڑپ ہو کہ میں خدا تعالیٰ کا کوئی نشان دیکھوں اور اپنے ایمان کو تازہ کروں تو اس کا طریق یہی ہے کہ زمانہ کے مامور سے گہرا تعلق پیدا کرے اس کے بعد انسان کی اپنی ذات، اس کے بیوی بچے، اس کا کھانا پینا، بیٹھنا اٹھنا، سونا جاگنا سب کچھ ایک نشان بن جاتا ہے۔اس وقت میں جس نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں وہ بھی ایک نشان ہے کیونکہ لڑکا حیدر آباد دکن کا رہنے والا ہے اور لڑکی لاہور کی رہنے والی ہے۔دونوں کی نہ تو زبان ایک ہے، نه اطوار، نہ تمدن و تہذیب ایک۔مگر دونوں اُمَنَّا کی لڑی میں پروئے جاچکے ہیں اور اسی تعلق کی بناء پر یہ ظاہری رشتہ بھی قائم ہو رہا ہے۔اور اگر چشم بصیرت ہو تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کی غرض یہ تھی کہ دنیا کو ایک کر دیں اور اس سلسلہ کی پہلی منزل یہی ہے کہ پہلے آپس میں رشتہ داریاں ہو کر ظاہری اتحاد قائم ہو اور اس سے ترقی کر کے آگے ہر چیز میں کامل اتحاد اور یگانگت پیدا ہو جاتی ہے۔سیٹھ محمد غوث صاحب جو حیدر آباد کے رہنے والے مخلص اور سلسلہ کے پرانے خادم ہیں اور قادیان میں بھی اکثر آتے رہتے ہیں حالانکہ ایسے کاروباری لوگ عام طور پر یہاں نہیں آسکتے۔ان کے لڑکے محمد اعظم صاحب کا نکاح حکیم محمد حسین صاحب قریشی (لاہور) کی لڑکی سے قرار پایا ہے۔قریشی صاحب سیٹھ صاحب سے بھی پرانے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے اولین صحابہ میں سے ہیں۔ه الفضل ۲۶ مئی ۱۹۳۰ء صفحه ۲ له النور : ۴۵ کے ازالہ اوہام حصہ اول صفحه ۲۰۷ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۰۷ الفضل ۲۷ - مئی ۱۹۳۰ء صفحه ۶۴۵) که اول عمران : ۱۹۴ ے تذکرہ صفحہ ۲۰- ایڈیشن چهارم