خطبات محمود (جلد 3) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ جلد سوم خیال کر لیتے ہیں کہ جماعت کے دوسرے افراد کام کر رہے ہیں تو ہمارا فرض بھی ساتھ ہی ادا ہوتا جا رہا ہے یا یہ کہ خلیفہ موجود ہے وہ خود کام کرے گا حالانکہ یہ خیال غلط ہے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو خود محسوس کرے اور اپنے نفس کے محاسبہ سے کبھی غفلت نہ کرے بہترین طریق پر وہی کام ہو سکتا ہے جو انسان خود اپنے نفس کا محاسبہ کر کے کرتا رہے اور بہترین نگرانی محاسبہ نفس ہی ہے۔یا پھر انبیاء کی ذات ہوتی ہے جو اپنے تازہ نشانات سے لوگوں کے اندر اس قدر استعداد پیدا کر دیتی ہے کہ ان کے اندر نفس کے محاسبہ کی طاقت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے اور ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کو دیکھ کر انسان کے ایمان میں اس قدر قوت پیدا ہو جاتی ہے جو دوسرے کے وعظ و نصیحت یا خطبات سے ہرگز نہیں ہو سکتی اور انبیاء کے زمانہ میں اس قوت کا پیدا کر لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے لیکن انبیاء کی وفات کے بعد انسان کو بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت عمرو بن عاص جب فوت ہونے لگے تو بہت روئے۔آپ کے لڑکے نے کہا آپ نے اسلام کی بہت خدمت کی ہے اور اللہ تعالٰی یقینا اس کا اجر آپ کو دے گا پھر رونے کی کیا وجہ ہے۔آپ نے جواب دیا۔عبد اللہ ایک وقت وہ تھا جب رسول کریم ﷺ کی مخالفت میں میں انتہائی درجہ پر تھا اور مجھے آپ سے اس قدر عناد اور بغض تھا کہ میرے نزدیک آپ سے زیادہ مغضوب انسان دنیا کے تختہ پر اور کوئی نہ تھا اور میں نے کبھی پسند نہیں کیا تھا کہ آپ کے چہرہ کی طرف دیکھوں۔لیکن جب اللہ تعالٰی نے میری آنکھیں کھول دیں اور میں ایمان لایا تو آپ کا عشق میرے اندر اس قدر بڑھا کہ میں رُعب اور جلال کی وجہ سے آپ کی شکل نہ دیکھ سکتا گویا ساری عمر میں نے جی بھر کر آپ کے چہرہ کو دیکھا ہی نہیں۔پہلے تو عداوت اور بغض کی وجہ سے اور پھر محبت و عشق کی وجہ سے نہ دیکھ سکا۔حتی کہ آپ وفات پاگئے اور اگر کوئی شخص مجھ سے آپ کا حلیہ مبارک دریافت کرتا تو میں اسے نہیں بتا سکتا۔اس وقت ہی اگر میں فوت ہو جاتا تو اچھا ہوتا کیونکہ اب دوری اور بعد کی وجہ سے معلوم نہیں کس قدر غلطیاں ہم سے سرزد ہو چکی ہیں۔شہ یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے رسول کریم ایک کی صحبت سے فیض حاصل کیا پھر جو بعد میں پیدا ہوئے، بعد میں زندہ رہے اور بعد میں عمریں گزاریں ان کا کیا حال ہو گا۔سوائے