خطبات محمود (جلد 3) — Page 276
خطبات محمود ۲۷۶ جلد سوم کہ یہ طبعی شرائط ہیں ان کی پابندی بہر حال تمہیں کرنی ہوگی۔ان کے علاوہ جو شرائط اور معاہدے اپنے لئے مناسب سمجھو کرو۔مہر گھٹاؤ یا بڑھاؤ، رہائش کے متعلق باہمی جو معاہدہ مناسب سمجھو کرو مگر یہ باتیں جو ان آیات میں بیان ہیں جنہیں نکاح کے موقع پر پڑھنے کا حکم ہے ضروری ہیں اور ان سے تم کسی صورت میں بھی آزاد نہیں ہو سکتے۔میں ان کی تفصیل میں اس وقت نہیں جاسکتا کیونکہ وہ بارہا بیان کی جاچکی ہیں اس وقت صرف اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ان آیات میں کچھ ذمہ داریاں مرد و عورت پر ڈالی گئی ہیں اور ان سے اسلامی نکاح زندہ ہے اگر انہیں نظر انداز کر دیا جائے تو پھر اسلامی نکاح بھی دوسرے نکاحوں کی طرح مردہ ہو جائے گا عام مسلمانوں نے تو اسے مردہ ہی بنا رکھا ہے۔وہ پہلے ان آیتوں کی تلاوت کر دیتے ہیں اور پھر فارسی کا ایک پرانا خطبہ جسے نہ نکاح پڑھنے والا خود سمجھتا ہے اور نہ لڑکا یا لڑکی یا ان کے متعلقین میں سے کوئی سمجھ سکتا ہے پڑھ دیتے ہیں۔ہمارے ایک عزیز کا نکاح ہوا تو مولوی صاحب نے انہیں کہا بگو من قبول کردم اتفاق سے وہ کچھ فارسی جانتے تھے۔انہوں نے کہا من قبول کردم - مولوی صاحب نے کہا نہیں۔کہو! بگو من قبول کردم۔انہوں نے کہا مولوی صاحب نکاح میرا ہے آپ کا تو نہیں۔مگر مولوی صاحب نے کہا اگر یہ نہیں کہو گے تو نکاح جائز نہیں ہو گا۔تو دیکھو کیا بے جان چیز بنا دی گئی ہے۔اسی طرح نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ ہر چیز کا ان لوگوں نے گلا گھونٹ دیا۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اور اس زمانے کے مامور کا احسان ہے کہ اس نے پھر اپنی مسیحیت دکھائی اور قسم بِإِذْنِ اللہ کی شان ظاہر کر کے ہمیں پھر جام ا زندگی پلا دیا۔نادان کہتے ہیں کہ قم باذن اللہ کے معنے مردہ کے زندہ کرنے کے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں جو زندگی بخشنے کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے آکر دنیا کو دی اور جو باقی تمام انبیاء اپنے اپنے زمانہ میں دیتے رہے ہیں اور ایسی ہی زندگی مسیح علیہ السلام بخشتے تھے مگر ایک فرق ہے کہ باقی تمام انبیاء کی زندگی بخشنا صرف طیر اور پرندے ہونے کی حیثیت تک تھا۔بے شک وہ زندگی اور بیداری پیدا کرتے تھے مگر وہ ایسی ہوتی تھی جیسے پرندہ اڑتا تو ہے مگر وہ اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتا۔ایک کتا اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چلتا ہے مگر وہ اپنے اس