خطبات محمود (جلد 3) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ چند موم و کے تحت وہ زمین میرے قبضہ میں آگئی۔اگر میں نے وہ کسی سے خریدی بھی ہے تو بیچنے والے کا اس پر حق کہاں سے آگیا تھا اگر اس نے بھی آگے کسی سے خریدی تھی تو اس کے پاس بیچنے والے کا حق کہاں سے آیا تھا اور اس طرح تلاش کرنے سے کوئی نہ کوئی مالک ایسا مل جائے گا جس نے اسے خالی پایا اور قبضہ جمالیا۔مگر اس طرح دوسروں کی عدم ملکیت ثابت نہیں ہو سکتی۔یہ انتظامی پہلو ہے کہ ہم موجودہ تقسیم کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں دخل نہیں دے سکتے ورنہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا سب کے لئے پیدا کیا ہے۔یہ نقطہ سمجھا کر آنحضرت ا نے صدقہ و خیرات میں جان ڈال دی۔چنانچہ جن الفاظ میں آپ کو صدقہ، زکوۃ وصول کرنے کا حکم ملا وہ یہ ہے خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ ُتزَكِّيهِمُ بِهَا - سے ان سے صدقہ لے اور اس طرح انہیں پاک کر۔یہ پاکیزگی اس طرح ہے کہ ان کے اموال میں دوسروں کا حصہ ہے اور ان پر یہ الزام آتا تھا کہ وہ دوسروں کا حصہ کھا رہے ہیں اس لئے ان سے کچھ حصہ بطور شرعی ٹیکس وصول کر کے دوسروں کو دے جن کے پاس نہیں اور اس طرح ان کے اموال کو پاک کر۔یہ خطبہ نکاح کا ہے اس لئے میں تفصیلا تو اس مضمون کو بیان نہیں کر سکتا صرف نکاح کی مثال لے لیتا ہوں۔ہندوؤں میں نکاح کے وقت چند پھیرے دے دیئے جاتے ہیں۔کیا ہی بے معنی اور مردہ رسم ہے۔اسی طرح عیسائیوں میں انگوٹھی دے دی جاتی ہے یا عورت سے کہلوایا جاتا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے اس مرد کی خادم رہوں گی۔اس میں کس بے دردی سے عورت کے حقوق کو کچلا گیا ہے لیکن محمد رسول اللہ ا لے آئے اور آپ نے نکاح میں جان ڈال دی۔ظاہراً اگر مرد عورت آپس میں ایک دوسرے کو پسند کرلیں تو ان کے اتحاد اور اتفاق سے زندگی بسر کرنے کے متعلق کیا خدشہ باقی رہ جاتا ہے۔لیکن رسول کریم اللہ نے نکاح کے موقع پر ایک اعلان ضروری رکھا جس میں خاص آیات کی تلاوت کا حکم دیا اور میاں بیوی کی ذمہ داریوں پر وعظ سنانا ضروری رکھا۔مرد عورت کو بتایا گیا کہ ان شرائط کو قبول کرتے ہوئے تم آپس میں معاہدہ کرتے ہو اور ان شرائط سے تم آزاد نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ طبعی ہیں۔کوئی شخص خواہ عہد کرلے کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا لیکن اس سے آزاد نہیں ہو سکتا کیونکہ معدہ بہر حال کھانا مانگے گا اور منہ سے کھانا نہ کھانے کا اقرار کر کے کوئی شخص بھوک سے نہیں بچے گا۔تو طبعی زمہ داریوں سے کوئی شخص آزاد نہیں ہو سکتا اس لئے ان تعلقات کی حد بندی کردی