خطبات محمود (جلد 3) — Page 237
خطبات محمود ۲۳۷ جلد سوم ہوتی ہیں جو انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں اور ان کی وجہ سے برا نتیجہ نکل سکتا ہے۔عام طور پر ظاہری شکل و شباہت دیکھی جاسکتی ہے اور اس کی رسول کریم ﷺ نے اجازت بھی دی ہے۔اسی طرح انسانی عادات بھی عورتوں کے ذریعہ معلوم کر سکتا ہے مگر باوجود اس کے کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔بسا اوقات میرے پاس مقدمے آتے ہیں اور جب میں پوچھتا ہوں کہ نا اتفاقی کی کیا وجہ ہے تو کہتے ہیں پتہ نہیں کیا وجہ ہے مگر دل نہیں چاہتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جذبات اور خیالات کے باریک احساسات کا بھی تعلق ہوتا ہے جنہیں انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر ان کو بیان نہیں کر سکتا۔یہ احساسات تعلقات پر اثر ڈالتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم نکاح کرتے وقت کھلے طور پر باتیں کرلو۔تمہاری باتوں میں کوئی پیچیدگی نہ ہو۔کوئی لپٹ نہ رکھو۔کوئی بدلہ لینے کے لئے یا نا جائز فوائد کے لئے نکاح کا ارادہ نہ ہو۔بلکہ تقویٰ مد نظر ہو۔خدا کی رضا کے لئے نکاح کا ارادہ ہو۔پھر جو باتیں تمہارے اختیار میں نہ ہوں گی ان کو خدا درست کر دے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ جو لوگ تقویٰ کو مد نظر رکھ کر نکاح کرتے ہیں خدا تعالی ان کے لئے ایسے سامان کر دیتا ہے کہ ان میں باوجود بعض نقائص کے ایسی محبت ہوتی ہے کہ لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے نکاحوں کے متعلق جب ہم دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ایک وقت میں آپ کی 9 نو بیویاں تھیں ادھر ساری دنیا کا بوجھ آپ کے کندھوں پر تھا اور آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی فرصت نہ ملتی تھی مگر آپ کی شادیاں چونکہ تقویٰ کے لئے تھیں اس لئے ایمان اور اخلاص کے لحاظ سے نہیں جو بحیثیت نبی رسول کریم آپ کے ساتھ آپ کی بیویوں کو تھا بلکہ بشری محبت کے لحاظ سے بھی رسول کریم ال سے ان کو بے حد محبت تھی۔ذرا غور تو کرو وہ کیا چیز تھی جس نے رسول کریم ﷺ کی اس قدر محبت آپ کی بیویوں کے دلوں میں پیدا کر دی تھی۔یہ خدا تعالیٰ کا تقویٰ ہی تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہوئی تھی اور اکیس بائیں سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں۔اس صورت میں دنیوی لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی زندگی بے مقصد و بے مدعا رہی۔مگر آپ کے مذہبی اخلاص کو جانے دیں تو میاں بیوی کے لحاظ سے جو اخلاص نظر آتا ہے وہ بھی بے نظیر ہے۔ایک عورت بیان کرتی ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت