خطبات محمود (جلد 3) — Page 213
خطبات ۲۱۳ جلد سوم ہے استعمال نہیں کرتیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں اور حقیر معاملات کو اتنا بڑھا دیتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ادھر مرد میلان طبع کو قابو میں نہیں رکھ سکتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو انگشت نمائی اور دشمنوں کو نسی کا موقع ملتا ہے۔گھروں میں فتنہ و فساد پیدا ہو جاتا ہے اور وہ گھر جس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس سے انسان جنت کا لطف اٹھائے۔دوزخ کا نمونہ بن جاتا ہے۔گھر اس لئے ہوتا ہے کہ جب انسان کام کرتا کرتا تھک جائے اور آرام کا محتاج ہو تو اس وقت گھر میں آئے اور کوئی گھڑی خوشی کی گزار سکے۔لیکن اگر انسان اپنی بے احتیاطی سے ایسی حالت پیدا کر لے یعنی دوسری شادی کے متعلق یا تو اپنے نفس کا اندازہ غلط لگائے یا جن عورتوں سے اس نے گزارہ کرنا ہے ان کا اندازہ غلط کر لے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر اس کے لئے دوزخ بن جاتا ہے۔وہ انسان حیوانوں میں زیادہ آرام سے گھڑی گزار سکتا ہے یہ نسبت دو بد خو اور اپنی عادتوں پر قابو نہ رکھنے والی عورتوں میں رہنے کے۔اور ایسے انسان کا بے شادی رہنا اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں کو انگشت نمائی کا موقع دے اور زبان طعن اسلام کے خلاف کھلوائے۔لیکن باوجود ان مشکلات کے اس سے زیادہ بیوقوفی نہیں ہو سکتی کہ کہیں خدا نے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کا حکم نہیں دیا۔انسانوں کو ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ دوسری شادی نہ صرف جائز ہوتی ہے کیونکہ جائز کا تو ہر مسلمان قائل ہے بلکہ ضروری ہوتی ہے۔قوم کے لحاظ سے یا دینی لحاظ سے ایسی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک انسان دوسری شادی کرے۔اس لئے جس طرح اس شخص کے لئے جو دو عورتوں میں انصاف نہیں کر سکتا یا ایسی بیویاں نہیں پاسکتا جو بردباری سے گزارہ کر سکیں میں کہوں گا اسے دوسری شادی نہیں کرنی چاہئے اور اگر وہ کرتا ہے تو مجرم ہے اسی طرح جو شخص قومی، تمدنی، مذہبی ضرورت کے وقت دوسری شادی کرنے سے جی چراتا ہے وہ بھی میرے نزدیک ویسا ہی مجرم ہے۔آگے رہا یہ امر کہ یہ حالات کیا ہوتے ہیں ہر انسان کے متعلق غور کرنے سے معلوم ہو سکتے ہیں اور اس کے لئے سب سے بڑا قاضی انسان کا اپنا نفس ہے۔دوسرے لوگ کسی کے متعلق شادی کے بعد فیصلہ کر سکتے ہیں مگر بہت سے انسان اپنے نفس کے ذریعے شادی سے پہلے فیصلہ کر سکتے ہیں۔پس اگر اللہ تعالی کے بعد انسان کے ذاتی معاملات کا کوئی حج ہے تو وہ اس کا اپنا نفس ہے۔اس کے لئے کوئی قواعد نہیں بیان کئے جاسکتے۔خود اس انسان پر اس معمہ کا حل چھوڑا جاتا ہے جس کے سامنے یہ پیش ہو کہ وہ اسے