خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 201

خطبات محمود ۲۰۱ جلد سوم تھی شادی کیا تھی دنیا کے لئے ایک عظیم الشان تغیر کا بیج اور دنیا کی بھلائی اور بہتری کا سامان تھی لیکن اس کے مقابلہ میں وہ شادی جو خوشیوں سے لہراتے ہوئے دل اور امنگوں سے بھرے ہوئے قلب کے ساتھ ہوئی اس سے دنیا کو ہلاک کرنے والے نتائج بر آمد ہوئے۔یہ تو آئندہ نسلوں کے متعلق نتائج ہیں جو شادیوں سے پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے ہیں لیکن خود شادیاں بھی بڑے بڑے ابتلاء کا باعث ہوتی ہیں جو بہت خوشی سے دن گزراتے ہیں، کوئی غم انہیں نہیں ہوتا، کسی قسم کا فکر ان کے پاس نہیں پھٹکتا لیکن جب شادی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے دن تاریک ہو جاتے ہیں اور ان کی راتیں ایسی ظلمت سے بھر جاتی ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ بجھائی نہیں دیتا ان کے لئے شادی کا پیغام ہلاکت اور تباہی کا پیغام ہوتا ہے کبھی انہیں دنیاوی مصیبتیں گھیر لیتی ہیں، کبھی وہ الہی عذابوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں، کبھی ان کے گرد قومی اور تمدنی مصائب حلقہ باندھ لیتے ہیں اور کوئی صورت ان کے بچاؤ کی باقی نہیں رہتی اور انہیں کوئی مفر نظر نہیں آتا۔پھر کتنی شادیاں ہوتی ہیں کہ شادی سے پہلے مرد و عورت غم وہم سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں، کبھی انہوں نے خوشی کی گھڑیاں نہیں دیکھی ہوتیں، تکالیف اور مشکلات سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ان کی شادی کیا ہی مبارک شادی ہوتی ہے کہ ان کے وہ چرے جو رنج و غم سے سیاہ ہو رہے ہوتے ہیں فرحت وراحت سے پھول کی طرح کھل جاتے ہیں اور سیب کی طرح چمکنے لگ جاتے ہیں ان کا گھر امن اور سلامتی سے بھر جاتا ہے۔ان کے محلہ بلکہ شہر کے لوگ ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، ان کی قوم، ان کی نسل، بلکہ ان کے ملک کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔گویا ان کی شادی ایک گھر کی شادی نہیں ہوتی بلکہ ایک ملک اور ایک قوم کی شادی ہوتی ہے۔ان حالات سے اندازہ لگالو کہ شادی کرنا کیسا مبارک مرحلہ اور کیا ہی دل دہلا دینے والا قدم ہے۔یہی وجہ ہے کہ مومن کے لئے ہر حالت میں یہ تکلیف اور گھبراہٹ کا قدم ہے۔بے شک ایک حالت میں وہ خوش بھی ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالٰی نے اس فعل کو خوشی کا فعل قرار دیا ہے۔اس کے ساتھ دعوتیں اور تقریبیں مقرر کر کے بتا دیا ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے مگر اس کی وجہ سے ایک طرف گھبراہٹ بھی ہوتی ہے کہ نہ معلوم کل کے لئے اس میں کیا کچھ مخفی ہے اور خاص کر میرے جیسے انسان کی حالت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا جس کے لئے اس کام میں اس قسم کی خوشی نہیں جیسی کہ عام طور پر لوگوں کو ہوتی ہے۔ایک جوان بے شادی شدہ جو شہوانی حالت سے بھرا ہوا ہے وہ اگر شادی کے انجام پر نظر ڈالتا تو وہ