خطبات محمود (جلد 3) — Page 189
خطبات محمود ۱۸۹ جلد موم بڑے بڑے اعلیٰ خاندان کے سید بیٹھے ہیں جن کی غلامی کا دوسرے لوگ فخر کرتے تھے مگر وہ اپنے لئے مسیح موعود کی غلامی کا فخر کر رہے ہیں وہ لوگ جو بڑے بڑے رئیس تھے کسی کی طاقت نہ تھی کہ ان کے برابر بیٹھ سکے۔اس سلسلہ میں داخل ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھنے والے شخص کی غلامی کا اقرار کر رہے ہیں۔یہ صرف خدا تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے ہے۔اگر تقویٰ اللہ سے تعلق نہ ہوتا تو میں کہتا ہوں کہ وہ کون سی خصوصیت تھی دنیا کی کہ جس سے ہم دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کو جھکا سکتے تھے۔ایک ہندو نے سنایا جو قادیان کا تھا کہ مرزا صاحب بہت بزرگ تھے۔ان کی بزرگی میں کیا شک ہے۔ہم لوگ جب باہر جائیں اور لوگوں کو پتہ لگے کہ قادیان کے ہیں تو وہ اپنے گھر لے جاتے ہیں اور بڑی خاطر اور بڑا ادب کرتے ہیں۔اس لئے کہ ہم قادیان کے رہنے والے ہیں تو نہ صرف حضرت صاحب کو بلکہ گاؤں کو یہ عزت حاصل ہوئی کہ بیرونی لوگ اس میں رہنے والے غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب کرتے ہیں۔یہ محض تقویٰ ہے اور تعلق باللہ کا نتیجہ ہے کہ جس کے بعد کوئی رسوائی نہیں رہ جاتی اسی تقویٰ اللہ کو اسلام نے نکاح میں مد نظر ر کھوایا ہے۔میرا دل کانپ جاتا ہے جب خیال آتا ہے کہ قریب قریب کے زمانے میں دو شادیاں ہوئیں۔ایک عبداللہ کی شادی ہوئی اور ایک ابو جہل کے باپ کی۔زیادہ خوشیاں ابو جہل کے باپ کی شادی پر کی گئی ہوں گی۔مگر اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ ایک شادی کے نتیجہ میں وہ لڑکا یدا ہو گا جو نہایت اعلیٰ درجہ کا انسان ہو گا اور تمدن کیا دنیاوی علوم کو بھی بدل دے گا دنیا کی کایا پلٹ دے گا۔اور دوسری شادی کے نتیجہ میں وہ لڑکا پیدا ہو گا جو ہمیشہ لعنت کا مورد ہو گا اور ظلمت کے فرزندوں میں سب سے بڑھ کر ظلمت کا حصہ لے گا۔اگر ابو جہل کے باپ کو یہ معلوم ہوتا کہ اس کی شادی کے نتیجہ میں ایسا لڑکا پیدا ہو گا تو میں خیال کرتا ہوں وہ ساری عمر کنوارا رہنا ر کرتا اور کبھی شادی نہ کرتا۔اس کے مقابلہ میں اگر دنیا کے لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ عبد اللہ کی شادی سے ایسا عظیم الشان انسان پیدا ہو گا تو دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ اپنی لڑکیاں پیش کرتے مگر شادی کے وقت کس کو علم ہوتا ہے کہ کیا نتیجہ ہو گا۔اس سے معلوم ہوا کہ شادی پسند؟ کا اثر چنددن تک ہی نہیں ہو تا بلکہ سینکڑوں ہزاروں سال تک چلتا ہے۔سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کے خیالات ہزاروں سال تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔امریکہ میں حال ہی میں ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کے جتنے بڑے بڑے بادشاہ تھے وہ سب ایک