خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 188

خطبات محمود IMA جلد سوم یا اے مرید تجھے میں ہدایت دیتا ہوں کہ تو دین والی عورت تلاش کر۔اسے چھوڑ کر اور خوبیوں کی طرف دھیان مت کر۔اس کا یہی مطلب ہے کہ تقویٰ کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔دنیا کی جو چیزیں لوگ طلب کرتے ہیں وہ تمام مٹ جاتی ہیں صرف ایک ہی ہے جو باقی رہتی ہے اور وہ تقویٰ اللہ ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی کے قصے لوگوں میں مشہور ہیں۔بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر وہ اپنے بھائیوں کی نظر میں خوبصورت نہ تھے۔دنیا میں لوگ بڑے بڑے مالدار گزرے ہیں مگر اب کوئی ان کا احترام نہیں کرتا دیکھئے سکند رو نپولین کو باوجودیکہ لوگ اتنا بڑا بناتے ہیں۔ان کے کارنامے سنتے سناتے ہیں مگر بازار میں کھڑا ہو کر کوئی شخص اعلانیہ ان کو گالیاں دے تو کوئی غصہ نہیں ہو گا۔لیکن اگر کوئی حضرت ابو ہریرہ کو جنہیں پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں ملتا تھا برا بھلا کے تو مسلمان مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔وہ ایک معمولی صحابی تھے جنہیں رسول کریم ﷺ کی احادیث و روایات بیان کرنے سے عزت ملی۔اگر وہ رسول کریم ﷺ کے صحابی نہ ہوتے تو تاریخ کے لحاظ سے کوئی ان کا نام بھی یاد نہ رکھتا۔انہیں نبی کریم ﷺ کی باتیں بیان کرنے سے یہ عظمت وشان حاصل ہوئی۔پھر حضرت ابو بکر کو کس وجہ سے یہ شان حاصل ہوئی ہے کہ جب کوئی برے الفاظ سے یاد کرے تو ایک مسلم کا خون جوش میں آجاتا ہے۔شیعہ سینوں کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں حتی کہ لکھنو میں کثرت سے فسادات و لڑائیاں ہونے کی وجہ سے قانون بنایا گیا ہے۔" پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اتنی مدت گزر گئی مگر آج بھی لاکھوں انسان ہیں جو اللهُم صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى إِلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔سے کہتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ مدت گزر گئی مگر جب کبھی کوئی مسلم یاد کرتا ہے تو پہلے حضرت لگاتا ہے پھر دعا کرتا ہے پھر حضرت آدم کے متعلق کہتے ہیں کہ چھ ہزار سال گزر گئے ہمارے آدم کو تو ضرور گزرے مگر نسل انسانی کے آدم کو شاید لاکھوں یا کروڑوں گزرے ہوں ان کو جب یاد کیا جاتا ہے تو تعظیم سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے مقابلہ میں بڑے بڑے بادشاہوں کو کوئی اس طرح یاد نہیں کرتا۔مصر و شام و ہندوستان وغیرہ ممالک میں ہزاروں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر آج انہیں کوئی یاد کرنے والا نہیں۔قادیان کو ہی دیکھ لو دنیا منتظر تھی کہ مہدی موعود عرب میں ہو گا اور سادات کے گھرانے سے ہو گا مگر ہندوستان کے کونے میں ایک بستی کو یہ شرف حاصل ہوا دیکھ لو اس مجلس میں آج