خطبات محمود (جلد 3) — Page 177
خطبات محمود 166 جلد موم وہ عورت مرد کو آزادانہ طور پر شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے لیکن شاہی خاندان کے لئے انہوں نے خود یہ پابندی رکھی ہے کہ وہ خود شادی نہیں کر سکتے۔اسی طرح شاہی خاندان اور اس سے قرابت رکھنے والے خاندانوں کی لڑکیاں بھی خود شادی نہیں کر سکتیں۔پہلے بادشاہ اور کونسل میں سوال پیش ہو گا اگر اجازت ہوگی تب کریں گے۔ورنہ خواہ لڑکی کسی پر عاشق ہی ہو یا لڑکا کسی پر عاشق ہو اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح بعض دفعہ میاں بیوی کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے مگر ایسے فسادات بند ہو جاتے ہیں جو قوم کو تباہ کرنے والے ہوتے ہیں۔بعض اوقات ایک شخص کسی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر اس کا اثر قوم پر برا پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے تو اسے شادی کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور دوسری جگہ اس کی شادی کردی جاتی ہے لیکن جہاں وہ کرنا چاہتا ہو اگر اسی جگہ کرلے تو قومی طور پر جو حقوق اور اعزاز اسے ملے ہوتے ہیں وہ چھین لئے جاتے ہیں اور آئندہ ان حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔تو یورپ والوں نے شاہی خاندانوں کے لئے یہ قید رکھی ہے۔میرے نزدیک ہر شادی میں دیکھنا چاہئے کہ اس شادی کا قوم پر کیا اثر پڑتا ہے۔ہماری شریعت نے گو شادی کا معاملہ مرد و عورت کی مرضی پر رکھا ہے مگر اس کے لئے ایسی شرطیں لگا دی ہیں کہ اگر ان کو مد نظر رکھا جائے تو کوئی مضرت نہیں پیدا ہو سکتی مثلا اول یہ کہ مرد و عورت اور ان کے رشتہ دار خدا تعالی کی رضاء اور اس کو خوش کرنے کے لئے شادی کریں اور اپنی کسی نفسانیت کے لئے نہ کریں اور جو ایسا کرے گاوہ قومی فوائد کو بھی مد نظر رکھے گا کیونکہ یہ بھی خدا کی رضاء کے حصول کے لئے ضروری ہے۔خطبہ نکاح میں جو آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں ہدایت کی گئی ہے کہ شادی کرتے وقت تم کو چاہئے کہ خدا کا خوف اور قرابت والوں کا لحاظ مد نظر رکھو۔جب بیوی آئے گی میاں کے رشتہ داروں سے بھی اس کے تعلقات ہوں گے۔اور میاں کے بیوی کے رشتہ داروں سے تعلقات ہوں گے لیکن اگر شادی ایسی ہوگی کہ اس کی وجہ سے رشتہ داروں کے تعلقات خراب ہو جائیں تو اس کے ذریعہ قوم میں ترقی کہاں ہوگی پس شادی کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عورت کے لانے سے اس کے رشتہ داروں اور اپنے رشتہ داروں سے کیسے تعلقات ہوتے ہیں۔یہی بات لڑکی بھی دیکھے اور لڑکی بیاہنے والے بھی دیکھیں بعض اوقات لڑکا لڑکی کے خاندان سے دشمنی رکھتا ہے لیکن لڑکی خوبصورت ہوتی ہے اس لئے شادی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اگر اس کے ساتھ لڑکی کی شادی کی جائے گی تو لڑکی کو اپنے