خطبات محمود (جلد 3) — Page 162
خطبات محمود جلد سوم کرتے خوشیاں مناتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ شادی کی تیاری میں بہت لوگ اپنا گھر لٹا دیتے ہیں۔اگر پاس کچھ نہ ہو تو روپیہ قرض لے کر خرچ کرتے ہیں۔مگر اوروں کو اس کا کچھ بھی علم نہیں ہوتا اور اس خوشی سے ان کے دل پر کچھ بھی اثر نہیں ہو تا ہاں اگر با جابج رہا ہو تو ان کو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے یہاں شادی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔غرض یہ احساسات کا عجیب سلسلہ ہے۔اس پر غور کرنے سے عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ایک بات ایک کے لئے خوشی کی گھڑی اور راحت کی واحد ساعت ہوتی ہے مگر دوسرے کے لئے ماتم کا اثر رکھتی ہے۔اور بہت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو نہ کسی کی خوشی میں حصہ ہوتا ہے نہ غم میں۔یہ مضمون مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فقرے میں سکھایا تھا۔حضرت مسیح موعود با قاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ایک دن ۱۹۰۷ء میں اخبار پڑھتے ہوئے مجھے آواز دی "محمود" یہ آواز اس طرح دی کہ جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔جب میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خبر سنائی۔ایک شخص (جس کا مجھ کو اس وقت نام یاد نہیں) مرگیا ہے۔اس پر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا مجھے اس سے کیا۔حضرت صاحب نے فرمایا اس کے گھر میں تو ما تم پڑا ہو گا اور تم کہتے ہو مجھے کیا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ تعلق نہ ہو اس کے رنج کا اثر نہیں ہوتا۔وہ کوئی بڑا ہی آدمی ہو گا کہ اس کا ذکر اخبار میں کیا گیا یا کم از کم اس کا اخبار والے کے ساتھ کوئی تعلق ہو گا تب ہی اس کا ذکر اخبار میں کیا گیا۔کچھ بھی ہو مگر اس کی موت کا اس کے بیوی بچے اور متعلقین پر اثر ضرور ہو گا اور وہ اس کی موت سے غمگین ہوں گے لیکن دوسروں کے لئے اس کا کچھ بھی اثر نہیں تھا۔اسی طرح انسان غیر کی خوشی کا بھی احساس نہیں کر سکتا۔پس خوشی اور غم کے احساس کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ تعلق ہو۔اس لئے شریعت نے روزے میں یہ سبق رکھا ہے کہ انسان خود بھوک برداشت کرے تا اس کو دوسرے کی بھوک کا بھی احساس ہو سکے۔آج جس نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔یہ تمہید اس کے متعلق ہے کہ احساسات ہوں اسی کے مطابق اثر ہوتا ہے۔آج میں میاں عبد السلام جو حضرت خلیفہ الاول کے بیٹے ہیں کے نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔وہ اپنی آئندہ عمر میں کیا کام کریں گے اور ان کو دین کی خدمت کے کیا کیا مواقع ملیں گے ہم نہیں جانتے۔ہاں ہم دعا کرتے ہیں