خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 101

H ۲۹ خطبات محمود اسلام میں ہر ایک کام کی بنیاد تقویٰ پر ہے (فرموده ۱۹۲۱ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : یہ آیتیں اور یہ عبارت جو رسول کریم ﷺ سے نکاح کے موقع پر ثابت ہے ان میں نکاح کے احکام اور اس کی غرض بیان کی گئی ہے۔لیکن اس وقت تفصیل سے نہیں بیان کر سکتا مختصر ابتا تا ہوں کہ اسلام نے سب کاموں کی بنیاد تقویٰ پر رکھی ہے اور تقویٰ کی مثال ایک بیج کی ہے جس سے آئندہ زندگی کا درخت تیار ہوتا ہے۔خلاصہ یہ کہ ہر کام میں تقویٰ مد نظر رہنا چاہئے کیونکہ ہر ایک بات کے متعلق حکم بتانا مشکل اور نا ممکن ہے کیونکہ انسان کو بے شمار کام زندگی میں پیش آتے ہیں۔اگر ہر ایک کام کے متعلق کہا جائے کہ یوں کر نا تو یہ نا ممکن ہے۔اس کے لئے ایک گر بتایا کہ خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔جب انسان اس گر کو اختیار کرے گا تو اس کے سب کام درست ہو جائیں گے۔خدا سے خلوص یہی تقویٰ ہے۔سینکڑوں باتیں ہیں کہ ان کے متعلق شریعت نے حکم نہیں دیا اور ہر چیز کی تفصیل شریعت نے نہیں بیان کی بلکہ ایک گر بتا دیا کہ تقویٰ اللہ کو مد نظر رکھو اور تقویٰ کے ذریعہ وہ روح پیدا کر دی اور اس کے ماتحت جو کام ہو گا وہ درست ہو گا۔نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ سب دینی اور دنیاوی کام جو اس کے ماتحت ہوں گے وہ درست ہوں گے باقی نہیں۔تقویٰ اس روح کا نام ہے جس کے ماتحت انسان محض خدا کی رضا کیلئے اس کے خوف کو مد نظر رکھ کر کام کرتا ہے۔اور یہی خدا کے قرب کی راہ ہے اور اسی گر کو نکاح کے خطبہ میں بیان کیا۔نه تاریخ نکاح و فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔الفضل ۷ ۲- جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۷۶)