خطبات محمود (جلد 3) — Page 100
خطبات محمود جلد سوم خزانے سے ہی مل سکتی ہے۔جب موقع میسر ہے مفید چیز ہاتھ آتی ہے کسی کی عقل ماری گئی ہے کہ اس کو چھوڑ دے۔نکاح کے موقع پر بھی حمد کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں بتایا ہے کہ اللہ تعالٰی محمد والا ہے اور دو سرے کچی حمد اس سے آسکتی ہے جو کچی تعریف ہوگی وہ خدا کی طرف سے آئے گی۔جو حمد خدا سے نہیں وہ جھوٹی ہے۔بندے کو آگاہ کیا کہ نکاح کے معاملہ میں توجہ سے کام لے اور اللہ تعالی سے حمد مانگے اور یہ تمہارے اختیار میں ہے کیونکہ حمدوں کا خزانہ تمہارے ساتھ ہے لیکن یہ بات اور یہ غرض بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔خطبہ کو رسم سمجھتے ہیں حالانکہ نکاح میں جتنی آیتیں پڑھی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جن کا براہ راست نکاح سے تعلق ہو۔نکاح صرف اعلان سے ہو جاتا ہے اگر جانبین قبول کر کے اعلان کر دیتے ہیں تو نکاح ہو جاتا ہے۔ایجاب و قبول ہی نکاح ہے۔اگر یہ آیات نہ پڑھی جائیں صرف ایجاب و قبول کرالیا جائے تو نکاح ہو سکتا ہے۔ان آیتوں کے پڑھنے سے کوئی ٹوٹا نہیں ہو جاتا بلکہ ان آیتوں کے پڑھنے کی غرض نصیحت ہے ورنہ ان آیتوں اور خطبوں اور وعظوں سے نکاح نہیں پڑھا جاتا۔اس خطبہ میں محض نکاح کی فریقین کو غرض بتائی جاتی ہے کہ نکاح کے بعد مرد کے عورت پر اور عورت کے مرد پر اور دونوں کے رشتہ داروں پر کیا حقوق عائد ہوتے ہیں اگر کوئی کمی ہو تو اس کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ہمارے نکاحوں اور غیر احمدیوں کے نکاحوں میں فرق ہے۔عموماً ان کے نکاح بطور رسم کے ہوتے ہیں اور ہمارے نکاحوں میں ایک حقیقت ہوتی ہے۔مسلمانوں نے نکاح کے خطبے کو ٹونا سمجھا ہوا ہے۔لیکن ہم اس کو ٹونا نہیں سمجھتے بلکہ جو اس کی غرض ہے وہ پوری کرتے ہیں۔چونکہ وہ ٹونا سمجھتے ہیں اس لئے حمد کے خزانے سے غافل رہتے ہیں اور ہم بتا دیتے ہیں کہ اس میں تمہیں حمدوں کے خزانے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور تمہیں جس نعمت کی ضرورت ہو وہ اس سے مل سکتی ہے۔افسوس ہے کہ لوگوں نے ادھر سے توجہ ہٹالی۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ان اغراض کو پورا کرے اس کا مجمل خلاصہ یہ ہے کہ خدا احمد کا خزانہ ہے تم اس سے مانگو جس نعمت کی ضرورت ہے۔پھر نتیجہ کبھی برا نہیں ہو سکتا۔له تاریخ نکاح و فریقین کا علم نہیں ہو سکا الفضل ۲۷ جون ۱۹۲۱ء صفحہ (۶)