خطبات محمود (جلد 3) — Page 99
۹۹ < ۲۸ خطبات محمود احمدیوں اور غیروں کے نکاحوں میں فرق (فرموده ۱۹۲۱ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : دنیا میں اجتماع ہوتے ہیں ان کے نتیجہ میں ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔خواہ کیسی ہی اشیاء ملیں ان کے ملنے کا نتیجہ تیسری چیز ہوگی۔خواہ وہ تیسری چیز نیا اور مستقل وجود رکھتی ہو۔خواہ ظاہر میں نہ ہو۔مثلاً ہم دو آموں کو ملا کر رکھ دیں تو تیسری نئی چیز تو پیدا نہ ہوگی البتہ شکل ضرور تیسری پیدا ہوگی جو دونوں کے الگ الگ رکھے ہونے سے نہیں ہو سکتی تھی۔غرض اجتماع اپنے اندر ایک اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کوئی اجتماع نہیں جس کا نتیجہ تیسری بات یا تیسری چیز نہ ہو اس لئے شریعت نے اس طرف توجہ کو پھیرا ہے کہ خطبہ عید ہو یا خطبہ جمعہ یا کوئی اور خطبہ یا جہاں اجتماع ہو وہاں ایسی باتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ جن میں خدا کی حمد بیان ہو۔نماز میں حمد رکھی اور خطبہ بھی اَلحَمدُ لِله نَحْمَدُ، وَنَسْتَعِينُه سے شروع ہوتا ہے۔خواہ کوئی خطبہ ہو اس میں حمد کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کیونکہ جب مخزن کی طرف نگاہ کی جائے تو انسان اپنی احتیاج کے مطابق اس میں سے لے سکے گا۔اگر مخزن سامنے نہ ہو تو احتیاج کے باوجود لینے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا بلکہ یونسی ٹکراتا پھرے گا۔کسی کو جنگل میں پیاس لگے اول وہ پیاس کو دبائے گا جب نا قابل برداشت ہوگی تو ادھر ادھر دوڑتا پھرے گا۔لیکن اگر پانی کا خزانہ معلوم ہو تو تھوڑی سی پیاس پر بھی سیر ہو کر پانی پئے گا۔جب انسان کو خیال ہو کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی تو اس وقت وہ اس کے لینے کی کوشش بھی کرتا ہے۔اس لئے شریعت نے حمد الہی کو بیان کیا اور بتایا کہ تمام تعریفوں کا خزانہ تو اللہ تعالٰی ہے اور چونکہ اجتماع کا نتیجہ ضرور ہوتا ہے اس لئے جس مفید چیز کی ضرورت ہو وہ اس