خطبات محمود (جلد 3) — Page 632
خطبات محمود ۶۳۲ جلد سوم کا ایک گلاس میرے پاس بھیجوایا کہ یہ پانی دم کر دیا جائے۔ان کی عمر کی زیادتی کی وجہ سے اور پھر اس وجہ سے کہ وہ بیمار ہیں ان کے دل کو تکلیف ہوگی میں نے پانی دم کر کے دے دیا مگر پھر انہوں نے دوسرے دن بھی تیسرے دن بھی اور پھر باقاعدہ پانی بھجوانا شروع کر دیا اور میں بھی دم کر کے دیتا رہا۔وہ تو خیر اچھے ہو گئے اس کے بعد میں اس انتظار میں رہا کہ ان کی دیکھا دیکھی دوسروں کو کب پانی دم کرانے کا خیال آتا ہے۔چنانچہ آج ایک اور دوست نے بھی پانی کا گلاس دم کرنے کے لئے بھیج دیا۔میں نے سمجھا اب تو دم کرانے والوں کا تانتا بندھ جائے گا اور میں سلسلہ کے دوسرے کام چھوڑ چھاڑ کر صرف دموں کے لئے ہی وقف ہو جاؤں گا اس لئے میں نے وہ گلاس واپس کر دیا اور کہہ دیا جاؤ میں نے ایک کی بات تو اس کی دلجوئی کے لئے مان لی تھی اب دوسرے کی بات نہیں مانتا۔رسول کریم الی ایک دن مجلس میں بیٹھے ہوئے صحابہ کے سامنے ذکر فرما رہے تھے کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے نبیوں کو جو انعامات ملتے ہیں ان سے مجھے وافر ملا ہے اور میرے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ یہ انعامات مقرر کئے ہیں۔آپ نے بہت سے انعامات گنتے ہوئے جنت کی نعماء کا بھی ذکر فرمایا یہ سن کر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لئے بھی دعا فرما ئیں کہ میں بھی وہیں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔اس کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی اٹھنا اور دعا کے لئے کہنا شروع کر دیا آپ نے فرمایا ایک کے لئے تو میں نے دعا کر دی ہے اب دوسروں کے لئے نہیں کر سکتا۔یہ تو ایک مثال ہے اور بھی کئی ایسی مثالیں ہونگی۔صحابہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ رسول کریم چونکہ ایک بشر ہیں اور بشر بشر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں کر سکتا کہ دنیا بھر کی اصلاح بھی کرے اور ہمارے سارے کام بھی وہی سرانجام دے اس لئے وہ آپ کو اپنے ذاتی کاموں کے لئے تکلیف نہیں دیتے تھے۔اور صحابہ کو اس کے متعلق اتنا احساس تھا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف جو نہایت اعلیٰ پایہ کے صحابی تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور جن کے متعلق رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا جب تک عبدالرحمن بن عوف زندہ ہے میری امت میں فساد نہیں ہو گا۔ایک دن عبد الرحمن بن عوف رسول کریم ﷺ کے پاس آئے ان کے کپڑوں کو رنگ کے کچھ داغ لگے ہوئے تھے اور وہ رنگ کے داغ اس قسم کے تھے جیسے عرب میں عام طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر کپڑوں پر لگائے جاتے تھے۔آپ نے فرمایا