خطبات محمود (جلد 3) — Page 538
خطبات محمود ۵۳۸ جلد سوم کھڑی کر دیتے ہیں اور جب ایک کو دھکا دیتے ہیں تو سب اینٹیں ٹھیک ٹھیک کرتے ہوئے گر جاتی ہیں۔جب کوئی شخص کسی کا حق غصب کرلیتا ہے تو وہ اپنے عمل سے دوسروں کو بھی اس کی تحریک کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے حقوق کو غصب کرلیں۔اس طرح رفتہ رفتہ اس کے ارد گرد ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس میں کسی کا حق مارنا گناہ خیال نہیں کیا جاتا اور اس کا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے۔لیکن اگر اسے دوسروں کے حقوق کے اتلاف کا خیال نہ ہو بلکہ وہ بجائے اس خیال کے کہ میں ایسی بیوی لاؤں جو میری خدمت کرے یہ ارادہ کرے کہ میں علیگ بذاتِ الدین کے ارشاد کے مطابق ایسی بیوی لاؤں جو اپنے فرائض اور واجبات کو ادا کرنے والی ہو اور عورت بھی یہ خیال نہ کرے کہ اس کا خاوند ایسا ہو جو صرف اس کی خدمت کرے بلکہ وہ ان فرائض اور واجبات کو ادا کرنے والا ہو جو اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے ہیں۔تو ی چونکہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے گا اور اسے معلوم ہوگا کہ رشتہ دار کے لئے یا سو سائٹی کے لئے یا مذہب کے لئے کس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اس لئے ہر شخص دوسرے کے لئے قربانی کرنے والا ہو گازاتی آرام اور ذاتی نفع کا خیال کسی کے دل میں نہیں آئے گا۔پس یہ ایک ایسا راحت اور آرام کا ذریعہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اس سے کام لے کر اپنے ارد گرد جنت بنا سکتے ہیں اور در حقیقت جب رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے تو آپ کا اسی طرف اشارہ تھا کہ تم اپنے بچوں کا فکر کر کے جنت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اپنی ماں اور اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے جنت حاصل کر سکتے ہو۔تم اپنے ماں باپ کی خدمت کرو تاکہ جب تم بوڑھے ہو جاؤ تو تمہاری اولاد تمہاری خدم کرے۔جب تک تمہارا رخ اگلی طرف رہے گا تمہیں دکھ ہی دکھ ہو گا لیکن اگر پیچھے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ تو تمہارے بچے تمہاری خدمت کریں گے اور دنیا کا دوزخ جنت سے بدل جائے گا۔له الفضل ۱۰۔ستمبر ۱۹۴۰ء صفحه ۲ سے کنز العمال جلد ۱۲ صفحه ۴۶ روایت نمبر ۲۵۴۳۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۷ء ترمذی ابواب النكاح باب ما جاء فى من ينكح على ثلث خصال شه مشكورة - كتاب الصلوة باب التحريض على قيام الليل - الفضل ۹ - نومبر ۱۹۶۰ء صفحه ۳ تا ۵)