خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 539

خطبات محمود ۵۳۹ ۱۲۱ جلد سوم سیٹھ عبد اللہ اللہ دین صاحب کا ذکر خیر (فرموده ۱۶ جولائی ۱۹۴۰ء) ۱ جولائی ۱۹۴۰ء بعد نماز مغرب مسجد مبارک قادیان میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سیٹھ عبد اللہ اللہ دین صاحب سکندر آباد کی صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح تین ہزار را پیہ مہر پر شیر علی صاحب ولد سیٹھ علی محمد بھائی صاحب کے ساتھ پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوں اس میں لڑکی سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کی ہے جو سکندر آباد کے رہنے والے ہیں گو آج مجھے نقرس کے درد کی تکلیف ہے اور یوں بھی جب لڑکے لڑکی والے دونوں یہاں موجود نہ ہوں تو عربی کے خطبہ پر ہی کفایت کرتا ہوں کیونکہ نصیحت جن کے لئے ہوتی ہے وہ خود ہی موجود نہ ہوں تو چنداں فائدہ نہیں ہو تا مگر اس وقت میں نے الفضل والوں کو بلا لیا ہے تاکہ خطبہ لکھ لیں تاکہ شائع ہو کر ان تک پہنچ جائے اور یہ ان تعلقات کی وجہ سے ہے جو سیٹھ عبداللہ صاحب سے مجھے ہیں۔سیٹھ صاحب جب غیر احمدی تھے ایک ہمارا وفد حیدر آباد میں تبلیغ کے لئے گیا۔وفد کے ارکان کو کسی ذریعہ سے معلوم ہوا کہ سکندر آباد میں خوجوں میں سے ایک صاحب دین سے بہت دلچپسی رکھتے ہیں نماز روزہ کے پوری طرح پابند ہیں اس پر وہ دوست ان کے پاس بھی گئے اور تبلیغ کی۔سیٹھ صاحب نے چار پانچ سوال لکھ کر دیئے کہ ان کے جواب دے دیئے جائیں اگر ان سے میری تسلی ہو گئی تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔ہمارے مبلغین نے وہ سوال مجھے دیئے اور