خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 487

خطبات محمود ۴۸۷ جلد سوم ہونے والے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم انہیں خود پورا کر کے عزت حاصل نہ کریں۔اگر ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں دوسرے پورا کریں اور عزت حاصل کریں اور خود دنیا کی عزتوں کے حصول میں لگ جاتے ہیں تو اس کے معنے ہی ہیں کہ ہمیں ان پر ایمان نہیں اور ہم یہ یقین نہیں رکھتے کہ وہ وعدے پورے ہونے والے ہیں۔وہ وعدے یقیناً پورے ہونے والے ہیں اور حقیقی عزت وہی پائے گا جو ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔میرا مطلب یہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لوگوں کو دنیا کا کوئی کام کرنا ہی نہیں چاہئے اور یہ ان کے لئے جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے دنیوی کاموں میں بھی دینی رنگ غالب نظر آنا چاہئے۔وہ اگر زمیندارہ کام کرتے ہیں یا ملازمت کرتے ہیں تو یہ پانچ چھ گھنٹے جو انہیں اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے لئے صرف کرنا پڑتے ہیں نکال کر باقی وقت ان الہامات کو پورا کرنے میں صرف کرنا چاہئے۔بے شک وہ دنیوی کام کریں مگر ان کے ساتھ اسی حد تک وابستگی رہنی چاہئے جتنی کہ ضرورت طبعی ہے اس سے زیادہ لگاؤ یا شغف نہ رہے۔ہر شخص کو طبعی تقاضا کے ماتحت پاخانہ میں جانا پڑتا ہے مگر وہ کوشش کرتا ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اس سے باہر آجائے جو شخص اس سے زیادہ وقت میں پاخانہ میں بیٹھتا ہے وہ پاگل ہے۔پس انہیں دنیوی کاموں کے ساتھ اتنا ہی زیادہ وقت ہونا چاہئے اور کم سے کم ایسے مقام پر کھڑا ہونا چاہئے کہ قیامت کے دن خدا تعالٰی کی ان پر حجت نہ ہو اور وہ یہ نہ کہے کہ تم نے اس جگہ رہتے ہوئے جہاں میرا فلاں الہام نازل ہوا اس کو بھلا دیا اور دنیا کو مقدم کر لیا اسے دوسروں نے قبول کیا مگر تم نے بھلا دیا۔ذرا غور کرو یہ کتنا شرمناک وقت ہو گا اگر ایسا معاملہ کیا جائے۔ہزاروں میلوں پر رہنے والے ان الہامات کو سنیں اور تسلیم کریں سالہا سال بعد پیدا ہونے والے سلسلہ کے ساتھ محبت و اخلاص میں دیوانے ہو رہے ہوں اور یوں معلوم ہو رہا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا نام لے کر ان پر رقت کی وجہ سے موت طاری ہو جائے گی اور جب ان بے دیکھے اور دور دراز فاصلہ پر رہنے والے عاشقوں کی یہ حالت ہو تو دیکھنے والوں اور گھر میں رہنے والوں کی ذمہ داری کس قدر ہونی چاہئے۔پس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے چند افراد کی شادی کی ہے میں انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک نکاح اچھی چیز ہے، میل ملاقات کو اللہ تعالٰی نے اچھی چیز بنایا ہے مگر