خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 488

خطبات محمود ۴۸۸ جلد سوم اصل وقت خوشی کا وہی ہے جب ہم خدا سے ملتے ہیں اور اس کے محبوب رسول کریم ای سے ملتے ہیں اور ایسی حالت میں ملتے ہیں کہ وہ ہم سے خوش ہوں، ہماری شادیاں، ہمارا اتحاد و اتصال سب بے حقیقت ہیں اگر ہمیں وہ راحت نصیب نہ ہو جو خدا تعالٰی نے ان لوگوں کے لئے مقدر فرمائی ہے جنہیں خدا و رسول کا وصال ہوتا ہے۔دنیا اسلام اور اس کی تعلیم سے بہت دور چلی گئی ہے۔آج نادان لوگ اسلام اور اس کی تعلیم پر بنتے ہیں اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ آواز بلند کی ہے کہ اس تعلیم کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہے اور ہمارا فرض ہے کہ آپ کے ارشاد کے مطابق اسلام کی تعلیم کو دنیا میں قائم کریں۔تمام رسم و رواج اور تمدنی پابندیوں کو ترک کردیں تا وہ اسلامی فضا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتے تھے قائم ہو جائے۔یاد رکھو کہ مغربی تہذیب و تمدن اور فیشن ہر گز باقی نہیں رہیں گے بلکہ مٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ دنیا میں اسلامی تمدن قائم ہو گا۔وہ آگ جو اس بارہ میں میرے دل میں ہے وہ جس دن بھڑکے گی خواہ وہ میری زندگی میں بھڑ کے یا میرے بعد بہر حال جب بھی بھڑکے گی دنیا کو بھسم کر دے گی۔اس کا اندازہ یا میں کر سکتا ہوں یا میرا خدا اور وہ بلاوجہ نہیں۔اگر وہ میرے دل میں اتنی شدید ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اور پھر آنحضرت ا کے دل میں کتنی ہوگی۔خدا تعالیٰ اپنے سومن بندوں کو اپنی محبت کی آگ دیتا ہے وہ بھی ایک دوزخ میں جل رہے ہوتے ہیں مگر وہ دراصل حقیقی جنت ہوتی ہے۔خوب یاد رکھو کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اسلام کے رستہ میں کھڑی ہونے والی چیزیں قائم رہ سکیں وہ یقینا تباہ و برباد ہوں گی اور ان کو اختیار کرنے والے بھی تباہ و برباد ہوں گے اور ان لوگوں کی خاطر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں اور بظاہر بالکل سادہ ہیں زمیندار لوگ ہیں جو تہبند باندھتے اور اچھی طرح بات بھی کرنا نہیں جانتے ان ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کی تباہی کا کام لے گا اور موجودہ تہذیب مٹ کر ان کے ہاتھوں میں دنیا کی رہنمائی آجائے گی۔آج کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کا انتظام کیسے کر سکیں گے لیکن کیا انہوں نے پنجابی کی یہ ضرب المثل نہیں سنی کہ "جس دی کو ٹھی دانے اس دے کملے دی سیانے " خدا تعالی جب برتری دیتا ہے تو عقل خود بخود آجاتی ہے۔نادر شاہ ایرانی ایک گڈریا تھا مگر اللہ تعالٰی نے اسے حکومت دی وہ دہلی پر حملہ کرنے آیا اور اسے فتح کر لیا۔دہلی کے بادشاہ نے اس سے مذاق کرنا چاہا جس سے اس کا مقصد اس کی سیکی تھا اور اس سے پوچھا کہ آپ کے