خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 472

خطبات محمود ۴۷۲ جلد سوم ساتھ ہی اس کی نیکی اور تقویٰ کا سامان بھی کر دیا۔پس رسول کریم ﷺ نے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُتُكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ - کہ تم بادشاہ بھی ہو مگر تم ایک اور بادشاہ بھی ہے تمہیں چاہئے کہ اپنے معاملات میں اس کا خیال رکھ لیا کرو گویا ان الله كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً۔میں جو کچھ بیان کیا گیا تھا رسول کریم ﷺ نے اس کا اپنے الفاظ میں ترجمہ کر دیا پس یہ آیت جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے اس کا پہلا حصہ یہ بتایا ہے کہ بعض دفعہ تم بڑے ہوتے ہو اور تمہارے رشتہ دار چھوٹے ہوتے ہیں اور تم تکبر سے انہیں دھتکار دیتے اور کہتے ہو کہ ہم کہاں اور تم کہاں مگر دیکھو یہ باری کبھی بدل بھی جاتی ہے اور چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے ہو جاتے ہیں اس لئے یہی بہتر ہے کہ صلح صفائی سے رہو۔ایک دوست نے ایک دفعہ لطیفہ سنایا۔وہ لاہور میں اس وقت کو نسل کے ممبر تھے مگر ار کونسل کے ممبر نہیں بلکہ اس سے بہت بڑے عہدہ پر فائز ہیں کہ ایک دفعہ جب پنجاب کو نسل کے لئے الیکشن کا زور تھا ان دنوں ایک زمیندار نے ووٹوں کے حصول میں میری خاص مدد کی اور سو دو سو ووٹ لوگوں سے مجھے دلوا دیئے۔میں نے سمجھا اس نے یہ ووٹ مجھے اس لئے دلوائے ہیں کہ اسے میرے متعلق یہ خیال ہے کہ میں کونسل میں خدمت خلق کا خیال رکھتا ہوں، اس کی اور کوئی غرض نہیں کیونکہ وہ دوست کسی کے آگے ہاتھ جوڑ کر ووٹ مانگنے کے عادی نہیں بلکہ یہ کہا کرتے ہیں کہ میں اس رنگ میں کام کرنے والا شخص ہوں اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے حقوق کی نگرانی کروں تو مجھے ووٹ دے دو۔اپنی اس سعادت کے لحاظ سے انہوں نے بتایا کہ میں سمجھتا رہا اس نے بھی مجھے ایک خادم وطن سمجھ کر ووٹ دلائے ہیں۔لیکن جب الیکشن ختم ہو گیا اور میں کامیاب ہو گیا تو ایک دن وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا فلاں جگہ کا ڈپٹی کمشنر آپ کے زیر اثر ہے اس کے سامنے فلاں گاؤں کی نمبرداری کا سوال ہے اور بعض اور لوگ بھی امیدوار ہیں آپ میری سفارش کر دیں۔میں نے اسے کہا کہ میں اپنے اصول کا پابند ہوں اور میری یہ عادت ہے کہ میں ایسے معاملات میں جہاں مقدمے کی کوئی صورت ہو کسی کی سفارش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس لئے مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی سفارش نہیں کر سکتا۔وہ کہنے لگا آپ بدنامی سے ڈرتے ہوں گے آپ اس کا فکر نہ کریں آپ خط لکھ کر مجھے دے دیں میں صاحب کو پڑھا کر اسی وقت اس سے واپس لے کر پھاڑ ڈالوں گا۔میں نے کہا اصول کا سوال ہے بدنامی کا نہیں۔جب میں ایسے معاملات میں سفارش کرنے کا عادی ہی