خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 449

خطبات محمود ۴۴۹ جلد سوم ہے بعض اوقات عارضی روکوں کے باعث لڑکیاں باہر نہیں دی جاتیں جیسے آج کل ہماری جماعت کو مجبوریاں پیش ہیں مگر الہی منشاء شادی کے ذریعہ تعلقات کو وسیع کرنا ہے۔اکثر لوگ آج کل حد بندیاں لگا دیتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ شادی غیر ملک میں نہیں کرنی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ حد بندی لگا دیتے ہیں کہ اپنی قوم سے باہر شادی نہیں کرنی۔پھر قوموں کو بھی بعض لوگ خاص کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں خاندان سے باہر نہیں کرنی۔ان لوگوں کی مثال دیسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کو جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا وہم ہوا کہ آیا میری نیت ٹھیک ہے یا نہیں۔اس نے انگلی کے اشاروں سے نیت باندھی، پھر بھی اسے اپنی نیت پر شک رہا تو اس نے صفیں چیر کر اور اگلی صف میں جاکر امام کو دیکھ کر انگلی سے اشارہ کیا مگر پھر بھی اس کا وہم کم نہ ہوا۔آخر اس نے امام کو انگلی لگا کر نیت باندھی پھر اسے خیال آیا کہ امام نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں شاید میری یہ نیت ٹھیک نہ ہو اس لئے اس سے بڑھ کر حرکت کرنی چاہی۔جب نوبت یہاں تک پہنچی تو لوگوں نے اسے پکڑ کر مسجد سے نکال دیا۔تو ایسے لوگ جو شادیوں میں حد بندیاں کرتے ہیں کہ سادات قوم ہو اور سید جو بخاری یا ترندی ہو ان میں شادی کرنی ہے ایسے لوگوں کی نسل پانچ دس پشتوں کے بعد بند ہو جاتی ہے۔ابھی چند دن کی بات ہے میرے پاس ایک خط آیا جس میں لکھا تھا کہ ہماری نسل کم ہو رہی ہے۔میں نے انہیں لکھا کہ اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ آپ لوگ شادیاں باہر نہیں کرتے جب شادیاں باہر کریں گے تو نسل بڑھ جائے گی۔ہندو معلوم ہوتا ہے اسی فلسفہ کے ماتحت شادیاں کرتے ہیں۔ان میں گوتیں ہوتی ہیں وہ کم سے کم دو گوتیں چھوڑ کر تیسری گوت میں شادی کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک برہمن کھتری کے ہاں شادی نہیں کرتا مگر ایک برہمن اپنے نزدیک کے رشتہ داروں میں بھی شادی نہیں کر سکتا۔دو گوتیں چھوڑ تیسری گوت میں شادی کر سکتا ہے گویا ہندو اپنے خاندانوں میں شادیاں نہیں کرتے بلکہ باہر کرتے ہیں۔غرض شادیوں کے پھیلانے سے ہی نسل پھیلتی ہے۔خدا تعالیٰ اس سلسلہ کے ذریعہ دو خاندانوں کو شیر و شکر بنا دیتا ہے اور وہ ایسے یک جان ہو جاتے ہیں کہ ”من تو شدم تو من شدی" والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ایک خاندان ایک ہی وجود کو پوتا کہہ کر اس پر جان دیتا ہے تو دوسرا خاندان اسے نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتا ہے دونوں خاندانوں میں اشتراک پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا منشاء شادی سے ایک طرف خاندانوں میں وسعت پیدا کرتا ہے اور دوسری