خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 444

خطبات محمود مممم جکمار سوام والدین کی خدمت کرے اور انہیں اس کے ذریعہ کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے مگر وہ یہ خیال لے کر آتی ہے کہ میں گھر جاتے ہی اس کے ماں باپ کو نکال دوں گی۔غرض یہ متضاد خیالات جو میاں بیوی کے اکٹھے ہونے سے پہلے پیدا ہوتے ہیں کیوں پیدا ہوتے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک غلط اصول پر چل رہے ہوتے ہیں جس سے سوائے فساد کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔جس قسم کے آرام کی توقع ایک خاوند اپنی بیوی سے رکھتا ہے اس کے بالکل الٹ بیوی اپنے خاوند سے توقع رکھتی ہے۔خاوند کی راحت اس میں ہوتی ہے کہ میرے ماں باپ کی خدمت ہو اور سو ۱۰۰ روپے کی بجائے دس روپے خرچ ہوں مگر عورت اس کے مقابل پر یہ خیال کرتی ہے کہ میرا آرام اس میں ہے کہ میں خاوند کے ماں باپ کو گھر سے نکال دوں اور دس کی بجائے سو ۱۰۰ روپیہ خرچ کروں تو ایسے گھر میں نہ تو خاوند کو آرام ہو گا اور نہ بیوی کو چین ہو گا کیونکہ ان کے اصول ہی ایسے ہیں جو فساد کا موجب ہیں۔ایسے موقع پر بے شمار درود ہوں ہمارے رسول کریم ﷺ پر جنہوں نے ایک ایسے قانون کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے کہ اگر ہم اس کو اپنے سامنے رکھیں اور پھر شادی کریں تو ہر گزید بات پیدا نہ ہو۔رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر اَلْحَمْدُ لِلّهِ نَحْمَدُ ، وَ نَستَعينُه نَسْتَغْفِرُ، وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ۔له پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مومن مرد اور مومنہ عورت نکاح کے موقع پر کہتے ہیں اَلحَمدُ لِله نَحْمَدُ ؟ کہ محمد کامل صرف اللہ کے لئے ہے۔ہم میں کوئی خوبی نہیں، ہم عیب دار ہیں، عیب سے پاک صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے وَ نَسْتَعِينُه مومن مرد اور مومنہ عورت کہتے ہیں کہ ہم تو خدا سے مدد طلب کرتے ہیں، انسانوں سے مدد کے طالب نہیں۔خاوند کہتا ہے کہ میری تمام امیدیں خدا تعالٰی سے وابستہ ہیں بیوی کچھ نہیں کر سکتی۔اسی طرح بیوی کہتی ہے کہ میری تمام امیدیں خدا تعالی کی ذات سے وابستہ ہیں خاوند کچھ نہیں کر سکتا۔ونستغفر ، پھر مومن مرد اور مومنہ عورت کہتے ہیں کہ اے خدا ہمارے گناہوں کو ڈھانپ لے ہم تو بڑے گنہگار ہیں صرف تیری ذات ہی ایسی ہے جو غلطی سے پاک ہے۔ونُو مِن ہم مومن مرد اور مومنہ عورت پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے ہماری ساری امیدیں اللہ تعالٰی ہی پوری کرے گا۔کیونکہ اس پر ہمارا ایمان اور یقین ہے کسی انسان پر نہیں کہ وہ ہر وقت ہمارے کام آسکے گا۔جب مومن مرد اور مومنہ عورت اپنی کمزوری اور بے بسی کا اس طرح اقرار کرتے ہیں تو اس کے