خطبات محمود (جلد 3) — Page 443
جلد سوم خطبات محمود ۴۴۳ ان کی طبیعت میں کبھی بھی شکوہ پیدا نہیں ہو تا کیونکہ ان کو ان چیزوں کے ملنے کی امید نہیں ہوتی اور وہ جانتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کو میسر نہیں آئیں گی۔مگر گھروں میں ان کو یہ چیزیں نہ ملیں تو شکوہ پیدا ہو گا کیونکہ وہاں ان کو امید ہوتی ہے کہ یہ میسر آجا ئیں گی۔اسی طرح اگر ایک شخص کسی غیر آدمی کے گھر جائے اور وہ اس کی خاطر نہ کرے حتی کہ پانی بھی نہ پوچھے تو اس کو ہرگز شکوہ نہ ہو گا کیونکہ اسے اس آدمی پر امید نہ تھی۔مگر وہی شخص اپنے کسی دوست کے گھر جائے اور وہ کسی قسم کی کوتاہی کردے تو خواہ دس رنگ میں اس کی خاطر و مدارات بھی کر دے اور صرف ایک رنگ میں اس کی خواہش پوری نہ کرے تو وہ اس سے شکوہ کرے گا۔شخص: اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلقات محبت کی وجہ سے ایک شخص کو دوسرے امیدیں ہوتی ہیں مگر ساری امیدیں صرف اللہ تعالی کے ذریعہ پوری ہو سکتی ہیں انسانوں کے ذریعہ پوری نہیں ہو سکتیں۔مگر بعض لوگ اس اصل کو بھول جاتے اور انسانوں پر اپنی امیدیں لگا بیٹھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ رنج اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔شادی میں بھی اس اصل کو مد نظر رکھ کر میاں بیوی ایک دوسرے پر امیدیں رکھ لیتے ہیں۔مرد اپنی بیوی کے متعلق سمجھتا ہے کہ وہ خوبصورتی میں پرستان کی پری سے بھی بڑھ کر ہوگی اور دنیا میں کوئی بھی عورت خوبصورتی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔اخلاق کے متعلق وہ یہ اندازہ لگاتا ہے کہ اس کے اخلاق اس قدر بلند ہوں گے کہ دنیا اس کی نظیر لانے سے محروم ہوگی اور وہ یہاں آکر سب کو اخلاق سکھلائے گی۔اس کے کھانے پکانے کے متعلق اس کا یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایسا اعلیٰ اور عمدہ کھانا پکانا جانتی ہوگی کہ دنیا کے تمام باورچی اس کے مقابلہ میں بیچ ہوں گے۔اس کے حسن انتظام کے متعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ سو روپیہ جہاں خرچ ہو تا ہو وہاں وہ اپنے حسن انتظام سے دس روپے خرچ کرے گی۔حسن سلوک کے متعلق اس کا اندازہ یہ ہوتا ہے کہ گھر میں آتے ہی وہ ایسا جادو کرے گی کہ میرے ماں باپ اس سے بہت زیادہ محبت کرنے لگ جائیں گے اور میرے معاملات میں تو وہ ایسی اچھی ہوگی کہ مجھ پر قربان ہو جائے گی اور میری ایسی مطیع اور فرمانبردار ہوگی کہ میں اس کے مقابلہ میں سب کو بھول جاؤں گا۔ادھر بیوی نے بھی اسی طرح امیدیں لگائی ہوتی ہیں۔وہ خیال کرتی ہے کہ خاوند کے گھر قدم رکھتے ہی وہ میرا غلام ہو جائے گا اور جہاں مجھے دس روپے کی ضرورت ہوگی وہاں وہ مجھے سو روپیہ دے گا اور اس جیسا با اخلاق آدمی دنیا میں کوئی نہیں ہو گا۔پھر خاوند کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری بیوی میرے