خطبات محمود (جلد 3) — Page 442
خطبات محمود لام سلام ۱۰۸ جلد سوم خالق کو اپنی امیدوں کا مرجع قرار دیں (فرموده ۳ ستمبر ۱۹۳۷ء) مکرم ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی اے ایل ایل بی وکیل گجرات کا نکاح مسماة زمانی بیگم صاحبه عرف روزی دختر خان بهادر آصف زمان خان صاحب کلکٹر مرحوم سکنہ پیلی بھیت سے دس ہزار روپیہ مہر پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۳۔ستمبر ۱۹۳۷ء کو بعد نماز عصر مسجد مبارک میں پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نکاح کے وقت انسان پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اگر فریقین ان ذمہ داریوں کو سمجھیں تو نکاح یقیناً بہت بڑی رحمت اور انعام ثابت ہو سکتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے ہمیں نصیحت فرمائی ہے کہ حمد کامل صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسی نسخہ کو ہر وقت سامنے رکھا جائے تو انسانوں کو ایک دوسرے سے شکوہ و شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور اگر ملے تو بہت کم۔میں جب آب و ہوا کی تبدیلی کی غرض سے پہاڑوں پر جاتا ہوں تو کئی چیزیں جو گھر میں ضروری نظر آتی ہیں وہاں جاکر ضروری نہیں رہتیں۔میرے ساتھ بالعموم ) افغان دوست ہوتے ہیں جن کو چائے پینے اور نسوار لینے کی عادت ہوتی ہے۔پہاڑ پر یا سفر میں ان کی یہ عادت جاتی رہتی ہے یا کم از کم بہت حد تک کم ہو جاتی ہے حالانکہ ان کو آدھ آدھ گھنٹے کے بعد نسوار لینے کی عادت ہوتی ہے۔یہ اس لئے کہ ان کو پہلے سے اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہاں یہ چیزیں میسر نہ آئیں گی وہاں ان کو نہ تو چائے کی پیالیاں ملتی ہیں اور نہ نسوار ملتی ہے مگر