خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 438

خطبات محمود ۳۸م جلد سوم ہے۔مگر اس کا حل قرآن مجید میں موجود ہے، رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر تلاوت کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ، تُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا لے کہ اے مسلمانو! تم جو نکاح اپنے مستقبل کو درست کرنے کے لئے کرتے ہو مگر اس میں ماضی کے حالات حائل ہو جاتے ہیں اور تم مستقبل کو درست نہیں کر سکتے اس کے ازالہ کے لئے ہم تمہیں دو طریق بتاتے ہیں۔جن پر اگر عمل کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ يُصْلِحُ لَكُمُ اعْمَالُكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - فرما کر الله تعالی نے اس میں یہ بتایا ہے کہ وہ تمہاری ماضی کی حالت کو درست کر دے گا اور يُصْلِحُ لَكُم اَعْمَالَكُمُ۔میں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ تمہارے مستقبل کو درست کر دے گا۔یعنی آئندہ تمہارے اعمال نیک ہو جائیں گے۔یہ دو راستے ہیں ایک مستقبل کا اور ایک ماضی کا۔ماضی کا راستہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا اور اس پر ایک پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے انسان خود اس پردہ کو نہیں ہٹا سکتا لیکن مستقبل کا راستہ انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا : لايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا - کہ اے ایمان والو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور قول سدید اختیار کرو۔اس آیت میں دونوں پہلو بیان کئے گئے ہیں۔ماضی کا بھی اور استقبال کا بھی۔ماضی کا پہلو چونکہ انسان کے قبضہ سے نکل جاتا ہے اس لئے اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالٰی نے تقویٰ اللہ کو رکھا کہ ماضی کی مشکلات سے نکلنے اور گزشتہ گناہوں کو معاف کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور اسے اپنی ڈھال بنا کر ماضی کے حالات سے لڑو۔جب اللہ تعالٰی ڈھال بن جائے گا۔تو پھر ماضی کے بداثرات کا اثر بھی جاتا رہے گا۔ای طرح دوسرے پہلو سے بچنے کے لئے فرمایا۔قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا کہ مستقبل کو درست کرنے کے لئے قول سدید اختیار کرو۔اللہ تعالٰی نے اس آیت میں يُصْلِحُ لَكُم اَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ فيا كر يُصْNANON LEGENDANAT AL کو یعنی مستقبل درست کرنے کے پہلو کو مقدم کیا ہے۔اور یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا - میں