خطبات محمود (جلد 3) — Page 437
خطبات محمود ۳۷ جلد سوم اس کی ترقی میں حائل ہوتا ہے۔وہ خود آگے بڑھنے کی کوشش کرتا اور مستقبل کو بہتر بنانے اور آئندہ اپنی اصلاح کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے مگر معاً اس کو اپنا تاریک ماضی نظر آجاتا ہے اور پھر ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جو اس کی ترقی میں روک بن جاتا ہے اور یہ ماحول اس کو ایسا چمٹا رہتا ہے کہ قدم قدم پر اس کے لئے روکیں پیدا کر دیتا ہے۔بعض معمولی باتیں ہوتی ہیں مگر ان کی اصلاح کے لئے بہت وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔بری عادتیں جب انسان چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض آدمیوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ تقریر کرتے وقت کندھا ہلاتے ہیں، بعض ہاتھ کو حرکت دیتے ہیں، بعض سارے جسم کو حرکت دیتے ہیں یہ عادتیں ہیں جو ان میں ابتداء سے ہنی پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر جب وہ ان کو چھوڑنے کا ارادہ کرتے ہیں تو جلد ہی یہ عادتیں دور نہیں ہو جاتیں بلکہ ایسی عادتوں کو چھوڑنے کے لئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔انگلستان میں ایک مشہور لیکچرار تھا جب وہ لیکچر دیتا تو کندھا ہلاتا رہتا جو لوگ تقریر سنتے وہ کہتے تقریر تو بہت اچھی تھی مگر کندھا ہلنے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ تقریر سے ہٹ جاتی۔آخر اس نے ارادہ کیا کہ اس عادت کو ترک کرے چنانچہ اس نے اپنے کمرہ کی چھت سے دو تلواریں دائیں بائیں لٹکا دیں اور اکیلا کمرہ میں داخل ہو کر اس نے لیکچر دینے کی مشق شروع کردی۔دوران لیکچر میں جب بھی وہ کندھا ہلا تا تو تلوار اس کے کندھے کو لگتی جب دایاں کندھا حرکت کرتا تو دائیں طرف کی تلوار لگتی اور جب بایاں کندھا ہلتا تو بائیں طرف کی تلوار لگتی آخر ایک عرصہ اس طرح مشق کرنے سے اس کی عادت جاتی رہی۔جب ایسی چھوٹی چھوٹی تو عادتوں کو دور کرنے کے لئے انسان کو بہت وقت دینا پڑتا ہے تو بڑی عادات کے ترک کرنے کے لئے کس قدر وقت درکار ہو گا۔غرض مستقبل کو درست کرنے کے لئے انسان کے راستہ میں بہت سی مشکلات حائل ہوتی ہیں ایک طرف انسان اپنے اعمال درست کرنے کی فکر میں ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے مگر دوسری طرف اس کی عادت اس کے مستقبل کو خراب کر دیتی ہیں۔یہ دو حالتیں دیسے تو ہر انسان کو پیش آتی ہیں مگر نکاح کے موقع پر نمایاں طور پر سامنے آجاتی ہیں۔انسان شادی کے ذریعہ اپنے مستقبل کو درست کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے مگر پچھلی عادات اور گزشتہ حالات جب اس کے اس ارادہ میں حائل ہو جاتے ہیں تو وہ گھبرا جاتا