خطبات محمود (جلد 3) — Page 413
خطبات محمود ١٣سم جلد سوم مسلمانوں میں ایک شور برپا تھا لیکن وہ جہاں جاتے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا اور ہر جگہ سے شکست نصیب ہوتی۔میں نے جب تبلیغ کا کام شروع کیا تو پہلے ایک سروے کرایا اور چوہدری فتح محمد صاحب کو وہاں بھیجا کہ وہ حالات کا مطالعہ کر کے رپورٹ کریں کہ کس طریق سے موثر رنگ میں تبلیغ کی جاسکتی ہے۔انہوں نے وہاں سے رپورٹ بھیجوائی جس میں ایک معقول تجویز پیش کی گئی۔انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ آریہ لوگ جن دیہات میں جاتے ہیں مسلمان بھی ان کے پیچھے پیچھے وہیں چلے جاتے ہیں لیکن چونکہ آریوں نے وہاں پہلے ہی لوگوں کو اپنے قابو میں کر کے مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیا ہوتا ہے اس لئے مسلمان جب وہاں جاتے ہیں تو وہ لوگ انہیں مار مار کر نکال دیتے ہیں اور ان کی بات تک سننا گوارا نہیں کرتے۔چوہدری صاحب نے لکھا۔ان کو اجازت دی جائے کہ جن علاقوں میں آریوں کا اثر قائم ہو چکا ہے ان کو بالکل چھوڑ دیا جائے اور درمیان میں کچھ فاصلہ رکھ کر ان علاقوں کی طرف توجہ کی جائے جہاں ابھی تک آریوں کا اثر قائم نہیں ہوا اور جہاں ابھی آریہ نہیں پہنچے تاکہ وہاں قبل اس کے کہ آریہ اپنا اثر جمانے کی کوشش کریں لوگوں کو پہلے سے ان کے خلاف پوری طرح تیار کر لیا جائے تاکہ آریہ وہاں پاؤں جماہی نہ سکیں۔یہ تجویز چونکہ نہایت معقول تھی اس لئے میں نے فورا انہیں حکم بھیج دیا کہ اس پر عمل کیا جائے چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں دو قسم کے قلعے بن گئے ایک تو وہ قلعے تھے جن پر آریوں کا قبضہ تھا لیکن دوسرے قلعے ایسے تھے جو ہمارے آدمیوں کے قبضہ میں تھے وہاں کے لوگ آریوں کو اپنے گاؤں میں گھنے نہ دیتے اور نہ ان کے قریب میں آتے۔اس طریق سے آریوں کے راستے مسدود ہو گئے، اور ان کی ترقی رک گئی۔لیکن اگر ہم بھی دوسرے مولویوں کی طرح آریوں کے پیچھے پیچھے جا کر تبلیغ کرتے تو ظاہر ہے کہ وہی شکست جو انہیں ملی ہمیں بھی نصیب ہوتی۔پس اللہ تعالی نے ہمیں ایک گر بتایا ہے کہ جس پر چل کر انسان نقصان نہیں اٹھاتا اور وہ گر یہ ہے کہ مستقبل کی فکر کرو۔۔اگر ماضی کے خطرات کی طرف نگاہ دوڑاؤ گے تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔اور اگر تمہارا حال بھیانک ہے اور تم اس کی فکر میں لگ جاؤ گے تو وہ تمہاری ساری طاقتوں کو زائل کر دے گا۔چاہئے یہ کہ ماضی اور حال کی الجھن سے نکل کر اپنا مستقبل سنوارنے کی کوشش کی جائے۔میرے پاس چند دن ہوئے ایک سکھ آیا اس نے کہا کہ نیکی کے معاملہ میں