خطبات محمود (جلد 3) — Page 373
خطبات محمود ٣٧٣ جلد سوم ہیں۔پس یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ شادی ایک ضروری چیز ہے اس میں مضرت کا پہلو کیا ہو سکتا ہے۔شادی باوجود ایک ضروری چیز ہونے کے اور باوجود اس پر دنیا کی ترقی کا انحصار ہونے کے اور باوجود آئندہ نسلوں کو بڑھانے کا ذریعہ ہونے کے دنیا میں ایک ایسا گروہ بھی ہے جس نے اسے برا قرار دے دیا ہے۔وہ لوگ شادی نہیں کرتے بلکہ ساری عمر رہبانیت میں گزار دیتے ہیں یا کم از کم دنیا کو دھوکا دینے کے لئے رہبانی بنے رہتے ہیں۔پھر جہاں دنیا میں ایک طرف شادی نہ کرنے پر زور دینے والے موجود ہیں وہاں دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو ہزار ہزار عورتوں سے بیاہ کر لیتے ہیں۔وہ اتنی عورتوں سے اس لئے شادی کرتے ہیں کہ وہ ان تمام کو روٹی کھلا سکتے ہیں مگر عورت صرف روٹی کھانے کے لئے نہیں ہوتی جس ضرورت کے لئے عورت ہوتی ہے یقیناً اس کے ماتحت وہ اتنی عورتوں کو نہیں رکھ سکتا۔پس ایک طرف اس طبعی تقاضا کو محدود قرار دے دیا جاتا ہے تو دوسری طرف غیر محدود پھر اگر ایک طرف مرد بیوی کی خاطر دین مذہب اور ایمان فروخت کر دیتا ہے اور بیوی مرد کی خاطر مذہب اور ایمان بیچ ڈالتی ہے تو دوسری عورتیں اپنے سسرال اور مرد اپنے سسرال کے ساتھ سلوک کرنے کی بجائے ان سے اپنے تعلقات قطع کر لیتے ہیں اور یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے فرشتے جہاں نیک تحریک دل میں ڈالتے ہیں وہاں ساتھ ہی شیطان کی ذریت بدی کی تحریک کرتی ہے۔مومن کو چاہئے کہ ہر کام جس میں وہ ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے دعا کے ذریعہ شروع کرے اور یہ نہ سمجھے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں اس کا کوئی برا پہلو نہیں کیونکہ ہر اچھی چیز کا برا پہلو بھی ہوتا ہے۔پس مومن کو تقویٰ پر اپنے ہر کام کا انحصار رکھنا چاہئے اور ہمیشہ نیک کاموں میں حزم اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔الفضل سے فریقین نکاح کا تعین نہیں ہو سکا۔ہ الماعون : ۵ الفضل -۱۵ جنوری ۱۹۳۶ء صفحه (۳)